خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 40
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء کی حسنات سے کچھ اس طرح نوازے گا کہ دنیا کے لئے قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ابھی ابھی مجھے مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کا وہ کشف یاد آ گیا جس میں ان کو دو تین سوسال بعد کا نظارہ دکھایا گیا۔کشف میں انہوں نے دیکھا کہ بعد میں آنے والے لوگ آپس میں باتیں کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کس قدر احمق تھے وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے آپ کو قبول نہ کیا۔اتنی بڑی صداقت اتنے روشن اور واضح دلائل خدا کی نصرت کے اتنے نمایاں نمونے دیکھنے کے بعد کیا وجہ ہو سکتی تھی کہ انہوں نے مسیح محمدی کے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔مطلب یہ کہ آنے والی نسلیں نہ ماننے والوں کو بڑی تعجب کی نگاہ سے دیکھ رہی تھیں۔ایسا ہی ہو گا یہ ایک حقیقت ہے جس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔اور وہ وقت قریب آ رہا ہے جب دنیا انکار مہدی معہود کو حیرت و استعجاب سے دیکھے گی۔اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اپنی فتح ، نصرت اور کامیابی کا انتہائی زمانہ تین سوسال تک بتایا ہے لیکن حضور کے بعض کشوف اور الہامات یہ بتاتے ہیں کہ وہ آخری فتح جس میں اسلام دنیا پر غالب آ جائے گا۔شاید کچھ دیر چاہتی ہو لیکن ان آنے والے پچیس تیس سالوں میں بعض ممالک اور علاقوں میں احمدیت کو کثرت حاصل ہو جائے گی (انشاء اللہ ) اور وہاں کے رہنے والے اپنی زندگیاں تعلیم احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے مطابق گزار نے والے ہوں گے۔مگر اس انقلاب عظیم کے لئے جو دروازہ پر کھڑا ہے کتنی ہی قربانیاں ہیں جو آپ کو دینی ہوں گی۔پس آپ کو وہ قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔خدا تعالیٰ اپنے فضلوں کی بارش آپ پر کرنا تو چاہتا ہے لیکن پہلے وہ یہ دیکھے گا کہ آپ ان فضلوں کے مستحق بھی ہیں یا نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور مجھ کو بھی ایسا بنا دے کہ ہم اس کی نظر میں ہر قسم کے انعاموں اور فضلوں کے مستحق ٹھہریں اور خدا تعالیٰ کے وعدے جلد ہی ہماری زندگیوں میں پورے ہوں اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ وہ جو دنیا کی نگاہ میں دھتکارا گیا تھا وہی دنیا میں مقبول ٹھہرا۔اللهم آمين روزنامه الفضل ربوه ۹ جنوری ۱۹۶۶ صفحه ۲ تا ۴)