خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 39
خطبات ناصر جلد اول ۳۹ خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء میں جماعت کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ پچیس تیس سال جماعت احمدیہ کے لئے نہایت ہی اہم ہیں کیونکہ دنیا میں ایک روحانی انقلاب عظیم پیدا ہونے والا ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کون سی خوش بخت قومیں ہوں گی جو ساری کی ساری یا ان کی اکثریت احمدیت میں داخل ہوں گی وہ افریقہ میں ہوں گی یا جزائر میں یا دوسرے علاقوں میں لیکن میں پورے وثوق اور یقین کے ساتھ آپ کو کہ سکتا ہوں کہ وہ دن دور نہیں جب دنیا میں ایسے ممالک اور علاقے پائے جائیں گے جہاں کی اکثریت احمدیت کو قبول کر لے گی اور وہاں کی حکومت احمدیت کے ہاتھ میں ہوگی۔وَلِرَتِكَ فَاصْبِرُ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں تمہیں ان نعمتوں سے نوازوں تو تمہارا فرض ہوگا کہ تم بنی نوع انسان سے نرمی اور محبت کا سلوک کرو اور ان کی ایذا دہی کو خدا کی خاطر سہہ لو۔اگر ان کے منہ سے سخت کلمات نکلیں۔اگر وہ بے ہودہ حرکتیں کریں اگر وہ تمہیں چڑا ئیں تو باوجود اس کے کہ تم انہیں اپنی طاقت سے خاموش کر اسکتے ہو اور انہیں بے ہودہ حرکتوں سے باز رکھ سکتے ہو ہم تمہیں یہی کہتے ہیں کہ ہماری رضا کی خاطر صبر سے کام لینا اور ان پر سختی نہ کرنا۔پس اپنے رب کو خوش کرنے کے لئے اس کی برکات کے حصول کے لئے اس کی رحمتوں کو جذب کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم صبر سے کام لو ٹھٹھے کے مقابلہ میں ٹھٹھا اور جنسی کے مقابلہ میں ہنسی اور ظلم کے مقابلہ میں ظلم نہ کرو۔وہ زمانہ چونکہ قریب ہے اس لئے میں آپ کو پھر تاکید سے کہتا ہوں کہ جب کسی قوم پر اس قسم کی عظیم نعمتیں نازل ہو رہی ہوں تو اس قوم کو بھی ایک عظیم قربانی دینی پڑتی ہے۔پس اپنے نفسوں کو اس قربانی کے لئے تیار کرو۔اپنی طبیعتوں کو اس طرف مائل کرو کہ ہم احمدیت کے لئے اسلام کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں گاڑنے کے لئے خدائے قادر و توانا کے جلال اور عظمت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ہماری جانیں ، ہمارے مال اور ہماری عزتیں سب خدا کے لئے ہیں اور خدا کی راہ میں قربان ہونے کے لئے تیار ہیں۔اگر ہماری جماعت ایثار اور فدائیت کا یہ نمونہ دکھائے تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو دین و دنیا