خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 541 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 541

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۴۱ خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء ٹھیک ہے بہر حال اس قسم کی تنگیاں ہمیں نظر آ رہی ہیں۔میں یہاں کے رہنے والوں کو جو مہمانوں کے لئے اپنے گھروں میں کھانا لے کر جاتے ہیں یا جو جماعتی قیام گاہوں میں مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور جو میرے باہر سے آنے والے بھائی اور دوست ہیں انہیں بھی میں خاص طور پر نصیحت کروں گا کہ اس سال یہ خیال رکھیں کہ کھانا کسی رنگ میں اور کسی شکل میں بھی ضائع نہ ہو۔اگر ہم اس سال ضیاع میں سات آٹھ یا دس فیصدی بھی کمی کر لیں تو ہم اس سال زائد آنے والے مہمانوں کی غذائی ضرورتیں اس مقدار اغذیہ میں پوری کر لیں گے جو مقدار اغذیہ پچھلے سال استعمال ہوئی تھی کیونکہ کچھ نہ کچھ کھانا بہر حال بے احتیاطی سے ضائع ہو جاتا ہے مثلاً چھوٹے بچے کھانا لینے آتے ہیں وہ کوئی روٹی زمین پر گرا دیتے ہیں یا وہ کسی روٹی کو اس طرح توڑ دیتے ہیں کہ وہ کھانے والی نہیں رہتی یا کسی گھر والے نے بے احتیاطی کی اور کھانا زیادہ منگوالیا۔مہمان آدھا کھانا کھا سکے اور آدھا نہ کھا سکے بہر حال ضیاع کی بہت سی وجوہات ہیں اور بہت سے سوراخ ہیں۔جن کے اندر سے ضیاع گھستا ہے اور جماعت کو نقصان پہنچاتا ہے میں کہوں گا کہ ضیاع کا ہر سوراخ بند کر دو اور خدا تعالیٰ کے کھانے میں سے ایک لقمہ بھی ضائع نہ ہور بوہ والے بھی اس بات کا خیال رکھیں اور باہر سے آنے والے دوست بھی اس بات کا خیال رکھیں۔اگر ہم اللہ تعالیٰ کا اس رنگ میں شکر ادا کریں گے تو میں سمجھتا ہوں وہ ہمارے گھروں کے کھانوں میں بھی بڑی برکت دے گا اور اس وقت جو غذائی بحران ہے۔اس سے بھی ہمیں بہت حد تک محفوظ رکھے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم ہر کام اس کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لئے کرنے والے ہوں اور شیطان کا کوئی حصہ بھی ہمارے اعمال میں نہ ہو اور اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل اور رحم سے ہماری ان کوششوں کو قبول کرے جو ہم اپنے خیال میں اس کے لئے کر رہے ہیں اگر کوئی رخنہ ، اگر کوئی گناہ، اگر کوئی کمزوری، اگر کوئی نقص اگر کوئی کوتا ہی ان میں رہ جائے تو وہ ان تمام کو تاہیوں کو اپنی مغفرت کی چادر کے نیچے ڈھانپ لے اور ہوں گے تو نہیں معصوم ہم لیکن وہ ہماری زندگیوں کو ایسا بنا دے کہ اس کی نگاہ میں اس کی رحمت کی نگاہ میں اس کی مغفرت کی نگاہ