خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 510
خطبات ناصر جلد اوّل ۵۱۰ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء اس میں بڑی تیز آگ جل رہی ہو اور اس کے کنارہ پر کوئی کھڑا ہو اور یہ خطرہ ہو کہ کہیں وہ اس کے اندر گر نہ جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اس ہدایت عظمی قرآن کو نازل کیا اور اس کے نتیجہ میں انسانوں میں سے ایک گروہ اس جماعت میں داخل ہو کر ایسا بن گیا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس جلتی ہوئی آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا اور اپنی محبت کی ٹھنڈی چھاؤں میں اسے لا بٹھایا اور رضاء کی جنتوں میں اسے داخل کیا۔یہ واقعہ صرف اس شخص سے پیش نہیں آتا جو کفر سے اسلام لاتا ہے بلکہ اُمت مسلمہ میں شامل ہونے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اُمت کو ایسے امتحانوں میں ڈالتا رہتا ہے۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت جب ابھی کسی امام کا انتخاب نہیں ہوا تھا اس وقت ساری اُمت مسلمہ اسی قسم کے ایک گڑھے کے کنارے پر کھڑی ہو چکی تھی جو خدا تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی آگ سے پر تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور پھر دنیا کو اَنْقَذَكُمْ مِنْهَا کا نظارہ دکھایا اور ان کے لئے اس آگ کے کنارے کی بجائے اپنے قرب کی راہوں کو کھول دیا۔تو جب بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول یا اس کے خلفاء میں سے کوئی خلیفہ وفات پاتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ کی حالت وہ ہوتی ہے جس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے کہ ایک گڑھا ہے جس میں آگ بھڑک رہی ہے اور وہ اس کے کنارے پر کھڑے ہیں اور نہیں کہا جاسکتا کہ وہ آگ کے گڑھے میں گر جائیں گے یا اللہ تعالیٰ کا فضل آسمان سے نازل ہوگا اور ان کو اس آگ سے بچالے گا۔ایسے موقع پر ( چند گھڑیاں ہوں یا چند گھنٹے ہوں یا چند دن ہوں ) شیطان کی ساری طاقت اس کام میں صرف ہو رہی ہوتی ہے کہ خدا کی مقرب جماعت میں فتنہ پیدا کرے اور ان کو آگ میں دھکیل دے اور خدا کی لعنت کا انہیں مورد بنائے اور خدا کے پیار سے انہیں دور لے جائے۔پس اس وقت شیطانی طاقتیں پورا زور لگا رہی ہوتی ہیں اور ہر قسم کے فتنے جماعت میں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں بدظنی کو ہوا دے کر اور کمزور دل خوف سے بھر جاتے ہیں اور ہر تد بیر جس سے الہی سلسلہ میں کمزوری پیدا کی جاسکتی ہے وہ تد بیر شیطان اور اس کے ساتھی کر