خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 509
خطبات ناصر جلد اول ۵۰۹ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہ اِخْوَانًا۔یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام لانے سے قبل یا اسلام سے باہر رہتے ہوئے جو لوگ زندگی کے دن گزار رہے ہیں وہ تفرقہ کا شکار ہیں مذہبی اور روحانی لحاظ سے ان میں سے کوئی جماعت یا فرقہ ایسا نہیں ہے کہ جو نیکی کے مقام پر کھڑا ہو یا نیکی کے مقام پرکھڑا رہ سکے۔کیونکہ یہاں نفی کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے عربی کا جو لفظ استعمال فرمایا ہے اس کے مقابلہ میں الفت کا لفظ استعمال کیا ہے اور الفت کے معنی اکٹھے ہو جانے اور محض باہمی مودت اور پیارے کے نہیں بلکہ ایسے اجتماع اور ایسی محبت و پیار کے ہیں جو نیکیوں پر قائم ہو ، جو بدیوں پر قائم ہو کر ایک جتھہ بنتا ہے۔اسے عربی زبان الفت کے لفظ سے یاد نہیں کرتی یہاں الفت کے مقابلہ میں تفرقوا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے اندر اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ تمام فرقے جو اسلام سے باہر ہیں یا وہ جو حقیقی اسلام سے باہر ہو جاتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جو نیکی اور تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو۔بلکہ سارے کے سارے بلا استثناء ضلالت پر قائم ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اِعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا پر عمل کرو گے تو فرقہ فرقہ نہ بنو گے اور جب بھی تمہارے اندر فرقے نظر آنے لگیں تو سمجھ لینا کہ قوم نے اِعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا پر عمل نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللہ کے نتیجہ میں ایک بڑا انعام جو تمہیں عطا کیا گیا ہے۔وہ با ہمی مودت اور اخوت ہے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا کہ ساری دنیا کی دولت بھی اگر خرچ کی جاتی تو اس قسم کی الفت جو نیکی پر قائم ہوتی ہے اور نیکی پر قائم رکھتی ہے اس جماعت میں پیدا نہ ہوسکتی۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے امت مسلمہ میں اس قسم کی محبت اور اخوت اور الفت کو پیدا کیا ہے اِعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللہ کے نتیجہ میں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ كُنْتُهُ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا۔چونکہ کوئی فرقہ بھی ہدایت پر اور صراط مستقیم پر قائم نہیں تھا اس لئے ان کی مثال ایسی تھی جیسے کہ ایک گڑھا ہو،