خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 484 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 484

خطبات ناصر جلد اول ۴۸۴ خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۶۶ء اور آپ جو احمدی زمیندار ہیں ایسا کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ دو چیزوں کا خیال رکھیں نسخہ میں بتا دیتا ہوں عمل کر کے آپ دیکھ لیں۔ایک یہ کہ نیت کرلیں کہ آپ کی جو زائد پیداوار ہوگی اس کا معتد بہ حصہ آپ خدا کی راہ میں خرچ کر دیں گے۔دوسرے یہ کہ جس وقت آپ اپنی زمین پر کام کر رہے ہوں تو سوائے خدا کے کسی اور کو یاد نہ کریں۔سوائے اپنے رب کے کسی پر بھروسہ نہ رکھیں۔اور ہل چلاتے ہوئے سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ - الْحَمْدُ لِلَّهِ - الله اكبرُ اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمّدٍ وَعَلَى خُلَفَاءِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى عَبْدِكَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُود وغیرہ دیگر دعائیں کرتے جائیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے ہل میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔جس طرح دوسری صورت میں زمین میں ہل چلے گا۔اس صورت میں بھی ہل چل جائے گا۔لیکن زمین کی روئیدگی بڑھ جائے گی اس کی فصل پہلے کی نسبت زیادہ ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ بڑی طاقتوں والا ہے اور میں نے بتایا ہے کہ ہمارا تعلق زندہ خدا سے ہے، وہ تو زمین کو حکم دے دیتا ہے کہ زیادہ اگا تو وہ زیادہ اگانے لگ جاتی ہے۔ابھی پچھلے سال میں نے وہاں ربوہ میں میں بائیں ایکٹر میں منجی لگوائی (ہمارے ربوہ کے ارد گرد کی زمینیں بڑی خراب ہیں ) جن لوگوں کے پاس پہلے وہ زمین تھی ان کی آمد فی ایکڑ آٹھ دس من تھی۔میں نے زمین بھی بہت دیر کے بعد لی اور وقت بھی بڑا تنگ ہو گیا تھا جسے پنجابی میں پچھیتا کہتے ہیں منجی لگوائی۔میں ہفتہ میں وہاں ایک آدھ دفعہ جاتا تھا اور دعا کرتا رہتا تھا کہ خدایا ! میں نے یہ کام شروع کیا ہے۔تو ہی اس میں برکت ڈال ! پھر یہ بھی کہ جب اندھیری آتی ، جھکڑ چلتا یا زیادہ بارش ہوتی تو میرے دل میں کوئی گھبراہٹ نہیں ہوتی تھی۔میں کہتا تھا کہ جتنا خدا تعالیٰ دینا چاہے وہی ٹھیک ہے اگر وہ کم دینا چاہے تو ہم کوئی شکوہ و شکایت نہیں کر سکتے۔ہمارا کام صرف یہ ہے کہ پوری محنت سے کام لیں اور زیادہ سے زیادہ دعا کریں پھر جو نتیجہ نکلے ہم خوش، اچھا نتیجہ نکلے تب بھی ہم خوش۔ہماری مرضی کے مطابق نہ نکلے تب بھی خوش کیونکہ