خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 483 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 483

خطبات ناصر جلد اوّل ۴۸۳ خطبہ جمعہ ۱۱/ نومبر ۱۹۶۶ء کھڑی ہے۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جاؤ تم سب کو معاف کر دیا گیا ہے۔اسی وجہ سے ان میں سے اکثر ایسے تھے جنہوں نے سمجھ لیا کہ تیرہ سال دکھ اُٹھانے کے بعد طاقت ملنے پر جو شخص اس فراخ دلی سے معافی دیتا ہے وہ عام انسان نہیں وہ فرشتوں سے بھی بلند ہے اور واقعہ میں اس کا خدا سے تعلق ہے۔مال دینے میں یہ مثال قائم کی کہ ایک شخص اکیلا آپ کے پاس آیا اس کا قبیلہ سخاوت میں بہت مشہور تھا۔اس نے آپ کو پکارا اور نام لے کر کہا کہ مجھے مال کی ضرورت ہے مال دیجئے۔جہاں آپ کھڑے تھے وہاں سامنے وادی تھی اور تمام وادی جانوروں سے بھری تھی۔آپ نے اسے فرمایا کہ اس وادی میں جتنے جانور ہیں ہانک کے لے جاؤ تمہیں دیئے۔وہ مبہوت سا ہو گیا۔اس نے خیال کیا کہ شاید میں نے آپ کی بات ٹھیک سے نہیں سنی۔یا میں آپ کی بات کو سمجھا نہیں ہوں اس نے پوچھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں !! آپ نے فرمایا کہ میں کہہ رہا ہوں کہ یہ تمام جانور جو تمہیں وادی میں نظر آ رہے ہیں ہانک کے لے جاؤ اس پر وہ سارے جانور لے گیا اور گھر جا کر اس نے اپنے قبیلے کو اکٹھا کیا اور یہ سارا واقعہ ان کے سامنے بیان کیا۔پھر اس نے کہا کہ جو شخص ساری وادی کے جانور میرے کہنے پر دے دیتا ہے وہ دنیا سے تعلق نہیں رکھتا۔دنیا دار تو سوچتا ہے کہ میں نے یہ سارے جانور دے دیئے تو اور کہاں سے آئیں گے۔پس اس نے اپنے قبیلے کو سمجھایا کہ یہ سخاوت اتنی بڑی سخاوت ہے کہ ان حالات میں ایسی سخاوت صرف وہ شخص کر سکتا ہے، جو خدائے واحد پر پورا بھروسہ اور پورا یقین رکھتا ہو اس لئے تم سب ایمان لا کر مسلمان ہو جاؤ۔اس پر وہ سارے ایمان لے آئے۔دیکھو! یہ عقلی دلیل پیش کر کے اس نے ان سب کو مسلمان بنالیا۔پس مال کے خرچ کرنے پر پابندیاں ہیں اور خرچ کی صحیح راہیں ہمیں بتا دی گئی ہیں۔حلال طریق پر مال کمانے پر کوئی پابندی نہیں جس طرح کوئی چاہے کمائے۔اس واسطے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہر احمدی فی کلہ (ایکٹر ) اتنے دانے پیدا کرے کہ کوئی غیر اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔