خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 476
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ اار نومبر ۱۹۶۶ء ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ایک زندہ وجود ہے۔چنانچہ آپ پر کثرت سے درود پڑھنے کی وجہ سے انسان پر اللہ تعالیٰ کی بڑی برکات نازل ہوتی ہیں۔( جماعت کو اس طرف متوجہ ہونا چاہیے!) میں نے چند سال ہوئے جماعت کو درود پڑھنے کی طرف توجہ دلائی تھی تو میرے پاس بیبیوں خطوط آئے کہ ہم نے جو تین سو دفعہ روزانہ درود پڑھا تو اس کے نتیجہ میں ہم پر ایسی برکات نازل ہوئی ہیں کہ ہم صرف اس مدت معینہ میں ہی نہیں بلکہ آئندہ ساری عمر میں ہی روزانہ تین سو دفعہ در دو پڑھا کریں گے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے رسول کو ایک زندہ رسول کی حیثیت میں ہمارے سامنے پیش کیا ہے اور ہمارے دلوں میں یہ بات گاڑ دی کہ یہ رسول ایسا نہیں کہ جس پر روحانی طور پر کبھی موت یا فنا آ سکتی ہے بلکہ اس کو قیامت تک زندہ رکھا جائے گا اور آپ کے روحانی فیوض جاری رہیں گے۔تیسری چیز جو بنیادی طور پر آپ نے جماعت کے ہاتھ میں دی وہ زندہ کتاب تھی۔مسلمان کہلانے والے قرآن کریم کو زندہ کتاب نہیں سمجھتے تھے کیونکہ وہ کہتے تھے کہ جی! پہلوں نے جو تفسیر لکھ دی بس وہی ٹھیک ہے اب قرآن کریم کے خزانے ختم ہو گئے اور یہ کتاب مردہ ہو گئی جیسے کسی نہر کا سارا پانی نکال لیا جائے تو کوئی اسے ”نہر جاری نہیں کہے گا۔جس نہر کا سارا پانی نکل جائے وہ خشک ہو جاتی ہے۔پس جب قرآن کریم کے تمام علوم پہلوں نے نکال لئے تو وہ خشک ہو گیا زندہ نہیں رہا، چالو نہیں رہا، گو یا وہ نہر دنیا کو فائدہ پہنچانے والی نہ رہی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے قرآن کریم کے علوم اس کثرت سے دیئے گئے ہیں کہ ان کا شمار نہیں ہو سکتا۔ایک عیسائی نے اعتراض کیا جب تو حید وغیرہ تورات میں بھی پائی جاتی ہے تو قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی؟ حضور علیہ السلام نے اسے جواب دیا کہ قرآن کریم کا تو تم ذکر چھوڑو۔یہ تو ایک بڑی کتاب ہے۔قرآن کریم کے شروع میں ایک مختصر سی سورۃ ہے جس کی کل سات آیتیں ہیں۔اس کا نام سورۃ فاتحہ ہے اور ہم اسے ہر نماز میں پڑھتے ہیں۔اس سورۃ فاتحہ