خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 470
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۷۰ خطبہ جمعہ اا نومبر ۱۹۶۶ء ایٹمی ہتھیا رتباہ نہیں کرسکتا۔اس کے بعد مسلمانوں نے بد قسمتی سے اسلام کو بھلا دیا اور قرآن کریم کے نور کو اپنے گھروں اور اپنے سینوں سے نکال باہر پھینکا اور ان کی بجائے اپنے سینوں اور گھروں کو بد خیالات بدرسوم اور شرک کے مختلف اندھیروں سے بھر لیا۔تب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ان دلوں میں میرے لئے تو کوئی جگہ باقی نہیں رہی اور ان مکانوں میں میرے ذکر کو بلند کرنے کا کوئی سامان نہیں۔اب یہ مکان وہ بیوت نہیں رہے جن کے متعلق وعدہ کیا گیا تھا اور بشارت دی گئی تھی۔في بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ ( النور : ۳۷) کہ ایسے گھر ہوں گے جن میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے گا اور آسمان سے ان کی بلندی کے سامان پیدا کئے جائیں گے۔تو پھر مسلمان تنزل کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے شروع ہوئے اور بعض دفعہ تو ایک انسان کی نیند حرام ہو جاتی ہے۔جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ تمام دنیا کے حاکم بھی یہی تھے، تمام دنیا کے استاد بھی یہی تھے، تمام دنیا کو تہذیب سکھانے والے بھی یہی تھے اور تمام دنیا کو دنیوی علوم سکھانے والے بھی یہی تھے اور تمام دنیا کو روحانی علوم سکھانے والے بھی یہی تھے اور اب یہ حال ہے کہ اپنے گھروں سے ، اپنے مدرسوں سے، اپنے کالجوں سے۔اور دوسری درسگاہوں سے روحانی علوم کو انہوں نے نکال کے باہر پھینک دیا اور دنیوی علوم کے لئے دوسری قوموں سے بھیک مانگنی شروع کر دی۔اندھیرے کا یہ زمانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے عین مطابق دنیا پر آیا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی کے عین مطابق وہ وقت بھی آیا جب اس اندھیرے کے زمانہ کو نور کے زمانہ سے بدلنا مقدر تھا اور اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور خدا تعالیٰ نے آپ کو الہاماً بتایا کہ چونکہ آپ نے اپنا وجود کلیتا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود میں گم کر دیا ہے اور آپ کے سینہ میں اسلام کا درد اور تو حید کو قائم کرنے کی تڑپ ایسی پائی جاتی ہے اور آپ کے یہ جذبات اتنی شدت اختیار کر گئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی محبت اس مقام تک پہنچ گئی ہے کہ جس مقام تک امت محمدیہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )