خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 388 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 388

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۸۸ خطبہ جمعہ ۹ ستمبر ۱۹۶۶ء نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کے نزدیک فرض کیا گیا ہے۔بلکہ (انما أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ) ( الكهف : ١١١) ہماری طرح کا ایک بشر ہونے کے باوجود بے حد اور بے شمار انوار روحانی آپ کے ساتھ اور آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے۔تو اس آیت میں فرمایا کہ یہ رسول نور ہے اس کا ہر فعل نور اور اس کا ہر قول نور ہے۔تم اس کی اتباع کرو گے تو اولبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ کے مطابق تم مُفْلِحِین میں شامل ہو جاؤ گے۔پس فرما یا کہ جو لوگ اس کی اتباع کرتے ہیں اور اس کے اسوۂ حسنہ کے رنگ میں رنگین ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔اس زندگی میں بھی خدا تعالیٰ کا نور ان کے چہروں پر چمکتا ہے اور اُخروی زندگی میں بھی ان کا یہ نور ( نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمَانِهِمْ ) ( التحريم : ٩) ان کے آگے بھی چل رہا ہو گا اور ان کے دائیں بھی چل رہا ہو گا۔یہ علامت ہو گی اس بات کی کہ یہ خدا تعالیٰ کے ان نیک اور پاک بندوں کا گروہ ہے جو سنت محمدیہ کی اتباع کرنے والے ہیں۔غرض فرمایا کہ وہ لوگ جن کا ایمان پختہ ہے۔جن کا ایثار اور جن کی فدائیت اعلیٰ ہے اور جنہوں نے احسن طور پر اپنے نفسوں کی اصلاح کی ہے اور دنیا کے سامنے اپنا پاک نمونہ پیش کیا ہے اور اسوہ رسول کی کامل اتباع کی ہے أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اور اس کے حضور فلاح پانے والے ہیں۔فلاح کا لفظ عربی زبان میں اس قسم کی انتہائی اعلیٰ اور احسن کا میابی پر بولا جاتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے کوئی اور لفظ عربی لغت میں نہیں پایا جاتا۔اس کے معنی دنیوی اور اُخروی کامیابی کے ہیں۔دنیوی کامیابی اس معنی میں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے صحت والی زندگی دی ہے۔اتنا مال اور قناعت دی ہے کہ سوائے اپنے رب کی احتیاج کے اس کو کسی اور چیز کی احتیاج محسوس نہ ہو اور عزت و جاہ عطا کیا ہے۔تو جس شخص کو یہ تینوں چیزیں مل جائیں اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس کو فلاح مل گئی اور اُخروی کامیابی اس معنی میں کہ اول ایسے شخص کو ایسی دائمی بقا اور دائی حیات حاصل ہو جو فی الواقع اور فی الحقیقت حیات