خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 387 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 387

خطبات ناصر جلد اول ۳۸۷ خطبہ جمعہ ۹ ستمبر ۱۹۶۶ء وہ لوگ چوکسی اور بیدار مغزی سے ان کی حفاظت کرنے والے ہوں گے اور وہ عہد جو انہوں نے اپنے رب سے اس نبی امی کے ہاتھ پر باندھا ہے مقدور بھر اس کی پابندی کرنے والے ہوں اور جو اوامر اور احکام پر مضبوطی سے قائم رہیں گے اور ان نواہی سے بچیں گے جن سے بچنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اس کی نصرت کرتے ہیں۔ان کا معاشرہ باہمی اخوت کے اصول پر قائم ہے۔بھائی بھائی کی طرح رہتے ہیں۔کسی کی بے جا مخالفت نہیں کرتے ، کسی کو دکھ نہیں دیتے، کسی کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے کسی کے خلاف زبان نہیں چلاتے وغیرہ وغیرہ بہت سی حدود ہیں جو شریعت اسلامیہ میں قرآن کریم نے بیان کی ہیں۔بعض جگہ لفظا کہہ دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرنا اور بعض جگہ معناً ان حدود کی طرف اشارہ کر دیا۔تو نصروہ کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ قرآن کریم کی بتائی ہوئی حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔ان سے تجاوز نہیں کرتے۔ایک اور معنی نَصَرُوہ کے یہ ہیں کہ اُمت مسلمہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اپنے رب سے عہد باندھا ہے اس میں سے وہی لوگ خدا کی نگاہ میں مفلح “ کہلانے کے مستحق ہوں گے جو اپنے عہد کی رعایت اور پابندی کرنے والے ہوں گے۔نیز وہ جو قرآن کریم کے احکام یعنی کرنے کی باتوں کا جوسینکڑوں ہیں اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جوڑا اپنی گردنوں میں ڈالنے والے ہیں اور نواہی جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان باتوں کو نہ کرو ان باتوں سے وہ اجتناب کرتے ہیں۔فرما یا أُولبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہی لوگ فلاح دارین کے حق دار ہیں۔پھر فرمایا وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِى أَنْزِلَ مَعَۀ کہ اس نبی اُمی کے ساتھ آسمان سے ایک نور بھی نازل ہوا ہے۔اس کے ہر قول میں آسمانی روشنی جھلکتی نظر آتی ہے اور اس کے ہر فعل میں اللہ کا نور جلوہ گر نظر آتا ہے۔اتَّبَعَ کے معنی ہیں قَفَا أَثَرَةُ اور اثر کے معنی سنت کے ہیں۔تو اتَّبَعُوا کے معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نورانی وجود بنا کر دنیا میں بھیجا تھا مگر یہ اس قسم کا نورانی وجود