خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 23
خطبات ناصر جلد اول ۲۳ خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء کہ راستوں میں گڑھے پڑ جائیں گے یعنی مرکز احمدیت کے گرد جو سڑکیں ہوں گی وہ ہمیشہ بپی (Bumpy) رہیں گی، جھٹکے دیا کریں گی کثرت ہجوم کی وجہ سے وہ کبھی ایک حالت پر نہ رکھی جاسکیں گی اور دوسری یہ کہ جو لوگ آئیں گے۔آخر انہوں نے کہیں ٹھہر نا بھی ہے۔تو ایک مستقل حکم یہ بھی دیا سعُ مَعَانَكَ کہ اپنے گھروں میں فراخی پیدا کرو انہیں بڑھاؤ بلکہ زیادہ گھر بناؤ۔اور جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ زیادہ کمرے بنوائیں۔اب یہ ہماری مرضی پر منحصر ہے کہ اگر ہم چاہیں تو گھر بناتے وقت یہ نیت کر لیں کہ ہم اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ گھر بنارہے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو اپنے رب سے یہ کہیں کہ اے خدا !!! ہماری ضرورتوں کا کیا ہے وہ تو بے گھر رہ کر بھی ہم پوری کر سکتے ہیں۔ہم یہ گھر صرف اس نیت سے بنا رہے ہیں کہ تیرے مسیح کے مہمانوں نے یہاں آنا ہے۔اور تیرا یہ حکم ہے۔وَسِعْ مَكانك اس طرح کہنے سے آپ کا مکان بھی بن جائے گا۔اور ساتھ ہی آپ خدا کے فضل کے وارث بھی بن جائیں گے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے۔وہ گھر بھی برکتوں والے بن جائیں گے۔وہ برکت ان میں اسی لئے ڈالی جائے گی کہ وہ وَشِعُ مَكَانَكَ کے حکم کے مطابق بنائے جائیں گے۔صرف اپنے دنیوی آرام کی خاطر نہیں بنائے جائیں گے۔اگر ہم اس نیت سے مکان بناتے ہیں تو میں اپنے بھائیوں سے کہوں گا کہ اپنی ضروریات اور اپنے ذاتی مہمانوں کی ضروریات سے کچھ حصہ بچا کر جلسہ کے لئے منتظمین کو دید میں کیونکہ اس کے بغیر خدا کے مسیح کے مہمانوں کو تکلیف پہنچے گی۔پھر میں یہاں کے رہنے والوں اور باہر سے آنے والوں کی خدمت میں یہ بھی عرض کروں گا کہ ہم جس پاک وجود کی طرف منسوب ہوتے ہیں خدا تعالیٰ نے اسے یہ بھی فرمایا تھا کہ تو وہ ہے جس کا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔سو د یسے تو یہ ہماری زندگی کا شعار ہونا چاہیے لیکن جلسہ کے دنوں میں ہمیں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہم اپنے اوقات کو ضائع کرنے والے نہ ہوں اور ہمارا ایک لحظہ بھی ضائع نہ ہو۔نیکی کی باتیں غور سے سنیں۔دعاؤں میں مشغول رہیں اپنے رب کے حضور جھکتے ہوئے عجز و انکساری سے ان ایام کو گزار ہیں۔اپنے لئے اپنوں کے لئے