خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 357
خطبات ناصر جلد اول ۳۵۷ خطبہ جمعہ ۵ راگست ۱۹۶۶ء نظر آئے۔اور پھر ایک معلم اور استاد کی حیثیت سے تمام دنیا کے سینوں کو انوار قرآنی سے منور کرنے میں ہمہ تن مشغول ہو جائے۔اے خدا! تو اپنے فضل سے ایسا ہی کر کہ تیرے فضل کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔اے زمین اور آسمان کے نور! تو ایسے حالات پیدا کر دے کہ دنیا کا مشرق بھی اور دنیا کا مغرب بھی، دنیا کا جنوب بھی اور دنیا کا شمال بھی نور قرآن سے بھر جائے۔اور سب شیطانی اندھیرے ہمیشہ کے لئے دور ہو جائیں۔میری توجہ اس طرف بھی پھیری گئی ہے کہ فضل عمر فاؤنڈیشن کا بھی ان سکیموں سے گہرا تعلق ہے۔پہلے میرا خیال تھا کہ میں آج کے خطبہ میں ہی اس کو ان کے ساتھ منسلک کر کے اپنے خیالات کا اظہار اپنے دوستوں کے سامنے کروں لیکن چونکہ گرمی زیادہ ہے اور لمبے خطبہ سے دوستوں کو تکلیف ہو گی۔اس لئے آج میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہتا۔اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی اور توفیق دی تو انشاء اللہ آئندہ جمعہ کو میں فضل عمر فاؤنڈیشن کے متعلق دوستوں کے سامنے اپنے ان خیالات کا اظہار کروں گا۔بہر حال ہمیں ہمیشہ یہ دعائیں کرتے رہنا چاہیے کہ واقعتا اور حقیقتاً خدا ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم قرآنی انوار میں ایسے گم ہو جائیں کہ سوائے انوار قرآنی کے ہمارے وجود میں اور کوئی چیز نظر نہ آئے۔آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۱۰ /اگست ۱۹۶۶ ء صفحه ۲ تا ۴)