خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 334
خطبات ناصر جلد اول ۳۳۴ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء ہے اور بتایا گیا ہے کہ جو لوگ روحانی علوم سے مس رکھنے والے ہیں اور روحانیت کی تڑپ رکھنے والے ہیں اور ان کا میلان طبع ایسا ہے کہ وہ روحانی علوم کے حصول کی خواہش اپنے اندر رکھتے ہیں اور اس نیت سے رکھتے ہیں کہ وہ یہ علوم حاصل کر کے ان سے فائدہ اٹھائیں گے۔ان کے لئے ہی یہ کتاب مفید ہوسکتی ہے۔اگر کوئی عیسائی مثلاً سارا قرآن کریم پڑھ جائے۔یہی نہیں بلکہ عربی میں اس وقت تک جتنی تفاسیر قرآن لکھی گئی ہیں وہ بھی پڑھ جائے۔یہی نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری کتب جو حقیقتا قرآن کریم کی تفسیر ہی ہیں وہ بھی پڑھ جائے یہی نہیں بلکہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفسیر کبیر کے نام سے بڑی تعظیم کتب تفسیر ( قرآن کریم کے بعض پاروں کی جو مکمل ہو چکی ہے ) شائع کی ہے وہ بھی سب پڑھ جائے تب بھی وہ قرآن کریم کو نہیں سمجھ سکتا۔ایک ایسا عجیب نظام اللہ تعالیٰ نے جاری کیا ہے کہ وہ قرآن کریم تک پہنچ ہی نہیں سکتا اور نہ ہی قرآن کریم کے علوم حاصل کر سکتا ہے نہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔بظاہر یہ ایک فلسفیانہ خیال ہے لیکن یہ بات سمجھانے کے لئے مجھے ابھی ایک بڑی اچھی مثال یاد آ گئی ہے اور وہ یہ کہ پہلے زمانہ میں سمندر میں مچھلیاں پکڑنے کے لئے بڑے یا چھوٹے جہاز بیبیوں یا سینکڑوں کی تعداد میں جاتے تھے۔ان کا طریق یہ تھا کہ مچھلیوں کے غول کا جو لاکھوں کی تعداد پر مشتمل ہوتا جہاں ان کو پتہ چلتا تھا تو وہ وہاں میل بامیل کے چکر میں جال پھینک دیتے تھے۔اور پھر اس جال کی ، پانی کی تہ میں ، ایک دیوار بن جاتی تھی اور مچھلی اس سے باہر نہیں جاسکتی تھی۔پھر وہ دوسرے جال کھینچ کھینچ کے مچھلیاں اُٹھاتے تھے۔پر ابھی کچھ عرصہ ہو اسائنس دانوں نے ایک شعاع ایجاد کی ہے۔اگر وہ شعاع پانی میں پھینک دی جائے تو مچھلیاں اس شعاع کو عبور نہیں کرتیں حالانکہ وہ کوئی مادی چیز نہیں لیکن ایک دیوار ہے اور دیوار بھی روشنی کی۔وہ اس روشنی کی دیوار سے پرے نہیں جاسکتیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارا قرآن ہے تو نور مجسم ! لیکن اس میں بعض ایسی شعاعیں بھی ہیں کہ جو پاک نہ ہو، جس میں روحانیت نہ ہو۔وہ اس تک پہنچ نہیں سکتا۔خود روشنی کی بعض شعاعیں