خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 335 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 335

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۳۵ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء اس کو محروم کر دیتی ہیں حقیقی و روحانی علم حاصل کرنے سے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق فرما یا لا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :۸۰) غیر مسلم تو اس تخیل کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔لیکن خود ان کے سائنسدانوں نے ایک مثال ایسی دے دی ہے کہ جس طرح مچھلی اس روشنی کے بیم (ستون) کو عبور نہیں کر سکتی۔قرآن کریم نے بھی اپنے گردشعاعوں کا ایک ہالہ بنا دیا ہے کہ جب تک تم مطہر نہیں ہو گے تم اس ہالہ کے اندر داخل نہیں ہوسکو گے۔تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی چھٹی صفت ان مختصرسی آیات میں یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ لِقَوْمٍ يعلمون ان لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جو روحانی علوم رکھتے ہوں۔جن کی طبیعت کا میلان روحانیت کی طرف نہ ہو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔(۷) ساتویں صفت اس کتاب کی یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ بشیر ہے۔قرآن کریم ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے کہ اگر تم یہ کرو گے تو تمہیں یہ انعام ملے گا۔مثلاً فرمایا۔وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ (یونس : ۳) یہ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِم بہت بڑی بشارت ہے جو قرآن کریم کے ماننے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کو دی گئی ہے۔لیکن یہ ایک مثال ہے۔حقیقتا سینکڑوں ہزاروں بشارتیں قرآن کریم کے متبعین کو اللہ تعالیٰ دیتا ہے اس معنی میں یہ کتاب بشیر ہے۔کیونکہ یہ کہتی ہے کہ تم میری پیروی کرو تمہیں نعمتوں پر نعمتیں ملتی جائیں گی۔(۸) آٹھویں صفت اس کتاب مجید کی نذیر ہے۔یہ کہتی ہے کہ اگر تم پیروی نہ کرو گے۔میرے بتائے ہوئے طریق پر نہ چلو گے۔جس طرف میں لے جانا چاہتی ہوں۔اس طرف منہ نہ کرو گے بلکہ اس طرف پیٹھ کرو گے اور مجھ سے پرے ہو جاؤ گے۔تو تمہارے لئے بہت سی مصیبتیں ، ابتلا ، دکھ، درد اور خدا کا غضب اور لعنت مقدر ہے۔تو یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی ایک صفت نذیر بیان کی ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔وَ انْذِرُهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ( مريم :۴۰) ان کو اچھی طرح متنبہ کر دو کہ اگر تم میری بتائی ہوئی تعلیم اور ہدایت پر عمل نہیں کرو گے تو تمہیں حسرت کا دن دیکھنا نصیب ہوگا۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو ان کو اس دن سے ڈرا جس دن افسوس