خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 326 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 326

خطبات ناصر جلد اول ۳۲۶ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء جن راہوں سے ملتی ہے۔ان کا اس میں ذکر ہے۔اَلرّحمٰنِ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ایک ایسی ہستی ہے کہ جو بغیر استحقاق کے بھی اپنے بندوں کو اپنی رحمتوں سے نوازتا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک تو یہ ارشاد فرمایا کہ ابھی انسان دنیا میں پیدا بھی نہیں کیا گیا تھا۔اس وقت اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں قرآن کریم جیسی کامل اور مکمل کتاب موجود تھی جس نے بنی نوع انسان کو روحانی رفعتوں تک پہنچانا تھا۔دوسرے تنزِيلٌ مِّنَ الرَّحْمَنِ کے یہ معنی ہیں کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہدایات، ایسے ذکر ، خدا تعالیٰ کی حمد کے ایسے طریق بتائے گئے ہیں کہ اگر انسان ان پر کار بند ہو تو وہ رحمن خدا کو خوش کرنے والا ہوگا اور عمل محدود ہونے کے باوجود غیر محدود جزا کا اور ثواب کا مستحق ٹھہرایا جائے گا۔ہندو مذہب کی اس بگڑی ہوئی شکل میں اللہ تعالیٰ کو نہ رحمن مانا جاتا ہے نہ رحمن سمجھا جاتا ہے۔اس لئے ان کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان اس مختصر زندگی میں جو اعمال بجالاتا ہے تو اس کا بدلہ بھی رحیم خدا ہی دیتا ہے۔رحمن خدا کا ان کے مذہب میں تصور ہی نہیں چونکہ یہ اعمال محدود ہوتے ہیں ان کا بدلہ اور ان کی جزاء بھی محدود ہوتی ہے اور جب محمد ود اعمال کا محدود بدلہ انسان کومل جاتا ہے تو پھر وہ ایک نئی جون میں اس دنیا میں واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ اگر اور انعام حاصل کرنے ہیں تو پھر دنیا میں جاکے اور عمل کرو پھر تمہیں اور انعام ملے گا۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ قرآن کریم کو نازل کرنے والی پاک اور قادر و توانا ہستی وہ ہے جو رحمانیت کی صفت سے متصف ہے اور قرآن کریم میں وہ ہدایتیں ، وہ احکام ، وہ فرائض، وہ دعائیں ، اللہ تعالیٰ کی حمد کے وہ طریقے بتائے گئے ہیں کہ اگر تم ان پر عمل کرو گے تو رحمن خدا خوش ہوگا اور تمہارے محدود اعمال کا غیر محدود بدلا تمہیں دے گا۔(۲) دوسری صفت قرآن کریم کی ان آیات میں یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ تَنْزِيلٌ مِّنَ الرَّحِیمِ ہے اس قادر و توانا ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہے جس کی صفاتِ حسنہ میں سے ایک صفت رحیمیت کی ہے۔یہ بتا کر ہمیں اس طرف متوجہ کیا گیا اور ہمیں امید دلائی گئی کہ ہم جو اعمال