خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 317
خطبات ناصر جلد اول ۳۱۷ خطبہ جمعہ ۱۵ / جولائی ۱۹۶۶ء کے جتنے بڑے بڑے فلاسفر گزرے ہیں۔ان سب نے اپنی فلاسفی یا ان نظریات میں جو انہوں نے پیش کئے مجھے یقین ہے کہ انہوں نے ان میں سے کسی نہ کسی مسلمان محقق سے بھیک مانگی ہے۔ایک جرمن فلاسفر کانٹ بہت مشہور فلاسفر ہے جسے صرف جرمنی میں ہی نہیں بلکہ انگلستان اور امریکہ اور دوسری مہذب دنیا میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسے بڑے دماغ والا خیال کیا جاتا ہے۔اس کی بہت سی تھیوریز اور نظریے جو اس نے دنیا کے سامنے پیش کئے۔میں ذاتی علم رکھتا ہوں کہ ان نظریات کو ہمارے مسلمان علماء نے (Kant) کانٹ سے بہتر طریق پرسو دو سو سال پہلے ہی دنیا کے سامنے پیش کیا ہوا ہے۔اس وقت تو ان علماء کی کتب بھی دنیا میں موجود تھیں۔بعد میں اسلام کے خلاف جو تعصب سے کام لیا گیا۔اس کے نتیجہ میں ہماری بہت سی لائبریریاں جلا دی گئیں۔اور بہت بڑے پایہ کی کتابیں ایسی ہیں جو یا تو اس وقت دنیا سے کلیتاً مفقود ہیں۔یا ان کی ایک آدھ جلد باقی ہے جو مثلاً روس کی لائبریری میں ہے اور ہماری دسترس سے باہر ہے اور ہم اس سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔یا اگر کہیں چھپی ہوئی ہوں تو کہہ نہیں سکتے۔اسی طرح طب ہے اور دیگر جتنی سائینسز ہیں اور جتنے دوسرے علوم ہیں ان کے متعلق یہ لوگ اب مجبور ہو کر تسلیم کر رہے ہیں کہ ہم نے ابتدا انہیں مسلمانوں سے سیکھا ہے۔پس جس وقت مسلمان قرآن کریم کی قدر کرنے والا تھا۔قرآن کے نور سے حصہ پانے والا تھا۔وہ تمام ان اقوام کا استاد تھا۔لیکن پھر انہوں نے اپنے غرور اور نخوت میں عملاً یہ اعلان کر دیا کہ ہمیں قرآن کریم کی ضرورت نہیں۔ہماری عقل ہی ہمارے لئے کافی ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم نے اپنی ناقص عقل پر ہی بھروسہ کرنا ہے۔تو پھر جاؤ اپنی عقل سے کام لے کر دیکھ لو اور آخر یہ ہوا کہ ہمیں علم کے ہر میدان میں بھیک مانگنی پڑ گئی ہے۔یہاں تک کہ جو موٹی موٹی باتیں ہیں۔جو آسانی سے ایک غیر دیندار مسلمان بھی قرآن کریم سے حاصل کر سکتا تھا۔وہ بھی ہمیں حاصل نہ رہیں کیونکہ قرآن کریم کی طرف ہماری توجہ ہی نہیں۔مثلاً ماڈل فارم ہیں آپ میں سے جو سفر کرنے والے ہیں وہ دیکھتے ہوں گے کہ ہر پانچ دس میل کے فاصلہ پر مختلف آدمیوں کے نام پر ماڈل فارم بنائے گئے ہیں۔زید کا ماڈل فارم، بکر کا ماڈل فارم وغیرہ یہ جو ماڈل فارمنگ ہو رہی