خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 318
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۱۸ خطبہ جمعہ ۱۵؍جولائی ۱۹۶۶ء ہے یہ سب مانگے کی ہے۔کسی مہذب قوم کے سامنے ہم اپنی آنکھیں اور سر اٹھا نہیں سکتے کیونکہ ہم خود منگتے ہیں اور ہمارا دامن ان کے سامنے پھیلا ہوا ہے۔ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق بیدِ سفلی رکھنے والے ہیں۔ہمارا ہاتھ نیچے ہے اور ان کا ہاتھ اوپر ہے حالانکہ خود قرآن کریم نے ہمیں روحانی باتیں سمجھاتے ہوئے کئی قسم کے ماڈل فارم کی مثالیں ذکر کی ہیں۔اور ان میں سے بعض ایسے ماڈل فارم بیان ہوئے ہیں کہ جن کے لئے پاکستان کی سالانہ آمد اگر تیس سال تک بھی خرچ کر دی جائے تب بھی وہ ریسرچ پروگرام اتنے کمال تک نہیں پہنچ سکتا۔جو قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔اتنی زبر دست تحقیقی باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں۔بے شک قرآن کریم ہمیں علم زراعت سکھانے نہیں آیا۔لیکن زراعت کو پیدا کرنے والا خدا ہمیں زراعت کی زبان میں روحانی باتیں سکھاتا ہے اور ضمناً ہمیں وہ باتیں بھی بتا جاتا ہے۔جو ہماری زراعتی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔میں نے کئی دفعہ اپنے ماہرین زراعت سے کہا ہے کہ تمہیں مانگنے کی عادت ہے، تمہیں شرم کرنی چاہیے۔ورنہ تم بجائے روس سے لینے کے، بجائے امریکہ سے لینے کے یا چین سے لینے کے کسی بھی غیر ملک سے مانگنے کی بجائے تم قرآن کریم پر غور کر کے اپنے ماڈل فارم کا پروگرام بناتے۔لیکن میری یہ بات سن کر وہ چپ ہو گئے۔انہوں نے کبھی خیال بھی نہیں کیا کہ قرآن کریم میں بھی کوئی علم ہے۔حالانکہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے مِنَ اللہ الْحَكِيمِ کہ یہ حکیم اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اگر تم اس کی پیروی کرو گے ، اس کے نور سے حصہ لو گے تو دنیوی علوم میں بھی کوئی قوم تمہارا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔کئی سو سال تک کی خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ واقعہ میں خدا تعالیٰ نے یہ سچ فرمایا ہے کیونکہ علم کے میدان میں کئی سو سال تک مسلمانوں کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی قوم کھڑی نہیں ہوسکی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنّا اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ ہم نے کامل سچائیوں کے ساتھ یہ قرآن تیرے پر نازل کیا ہے۔چونکہ یہ کامل صداقتوں اور کامل حقائق پر مشتمل ہے۔فَاعْبُدِ الله اس لئے اے مسلمان ! تو اپنے اللہ کی عبادت کر۔