خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 281 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 281

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۸۱ خطبہ جمعہ ۱۰ جون ۱۹۶۶ء انفرادی نشوونما اور ارتقاء اور انسان کی اجتماعی نشو و نما اور ارتقاء ایک خاص الہی منصوبہ کے ماتحت ہی ہے۔اس لئے اس نے اپنے علم کامل کے مطابق ابتدائے پیدائش سے ہی الکتاب قرآن کریم کو ربانی ہدایت مقررفرمایا ہے بے شک حضرت آدم کے زمانہ سے ہی انبیاء پیدا ہوتے رہے جو انسان کو درجہ بدرجہ پست مقامات سے اُٹھا کر بلند مقامات کی طرف لے جاتے رہے لیکن ان کو جو کچھ بطور شریعت کے ملا وہ کامل اور مکمل شریعت نہ تھی بلکہ نَصِيبًا مِّنَ الْكِتب (النساء:۵۲) اسی کامل کتاب کا ایک حصہ تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں عطا ہوا تھا۔اصل کتاب،اصل شریعت اور ہدایت جو اللہ تعالیٰ کے علم کامل میں ہے وہ قرآن کریم میں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کامل نیک جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو صحیح طور پر بجالاتا ہے اور اپنے رب کی کامل فرمانبرداری اور اطاعت کرتا ہے۔وہ ہے جو الکتاب پر ایمان لاتا ہے۔یعنی قرآن کریم کو اس کا حق دیتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے جیسے کہ واقعی قدر کرنی چاہیے کیونکہ یہی وہ کامل کتاب ہے جس کے بعض حصوں نے آدم علیہ السلام کی تربیت کی ، بعض حصوں نے نوح علیہ السلام کی تربیت کی ، ان کے بعد موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کی تربیت کی اور آخر میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی اصلی اور حقیقی اور کامل اور مکمل شکل میں نازل ہوئی۔پس کامل تربیت پانے والے صرف حامل قرآن ہی ہیں۔وَالنَّبِيِّينَ وہ شخص تمام انبیاء اللہ پر بھی ایمان لاتا ہے۔اِيْمَان بِالنُّبُوَّة کے لئے بھی کامل فرمانبرداری کی ضرورت ہے حتی کہ اس کے اپنے نفس کا کچھ بھی باقی نہ رہے اور انسان اپنا سب کچھ اپنے رب کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے اپنی عزت بھی ، اپنی روایات بھی ، اپنے تو ہمات اور خوش اعتقادیاں بھی۔انبیاء پر ایمان لانے کا حکم یہودیوں کو بھی تھا۔اس لئے ان پر فرض تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائیں آپ کی بعثت کے متعلق بہت سی پیش گوئیاں خود ان کی کتابوں میں پائی