خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 269 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 269

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۶۹ خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۶۶ء Acting گورنر جرنل ہے لیکن بہر حال سر براہ مملکت ہے اور جس طرح برسات کی ابتداء پر بڑی دور سے آپ کو چمک نظر آتی ہے۔پھر چمک بڑھنا شروع ہوتی ہے پھر بادل چھا جاتے ہیں اور آخر خدا کی رحمت (بارش) نازل ہوتی ہے۔اسی طرح یہ چمکار بھی پہلی چہکار ہے یا یوں کہیے کہ خدائے قادر و توانا کی انگلی مستقبل کے افق کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم خدا کی حمد بھی کریں اور اس کی راہ میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہیں۔یہ جو فرمایا کہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے یہ قریب“ کا لفظ نسبتی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی مثیل مسیح ہونے کا تھا۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے کہ جو نبی جمالی رنگ میں آتے ہیں ان کو انقلابی رنگ کی ترقیات اور فتوحات نہیں ملتیں بلکہ نسلاً بعد نسل ان کو قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب ان کی جماعتیں ترقیات کے کمال تک پہنچتی ہیں اور یہ بھی آپ نے فرمایا ہے کہ مسیح ناصری علیہ السلام کی قربانیوں کا زمانہ تین سو سال تک کا تھا۔اس کے بعد انہیں فتوحات ملنا شروع ہوئیں لیکن یہ بھی فرمایا ہے کہ چونکہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوں اس لئے جو ترقیات اور فتوحات مجھے نصیب ہوں گی گو حضرت عیسی علیہ السلام کے طریق کے مطابق ہوں گی لیکن اس زمانہ سے کم وقت“ میں حاصل ہو جائیں گی۔چنانچہ یہی ایک مثال ہے جس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس ” کم وقت سے کیا مراد ہے۔جب ہم حضرت مسیح علیہ السلام اور عیسائیت کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لانے والا یہ پہلا سر براہ مملکت ۷ ۳۳ء میں عیسائی ہوا۔کیونکہ اس سال میں سے قسطنطین نے با قاعدہ بپتسمہ لے لیا گووہ اس سے قبل ہی عیسائیت کی طرف مائل ہو چکا تھا (چنانچہ اس نے ۳۲۵ء میں کلیسیا کی کونسل میں شرکت بھی کی تھی۔) پس اگر ہم وہ سن بھی لے لیں جس میں اس نے عیسائیت کو بظاہر قبول کر لیا تھا (یعنی ۶۳۲۵) تب بھی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ تین سو سال بعد ایک سر براہ مملکت حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لایا تھا۔اس کے مقابلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ، بیعت کے صرف