خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 270
خطبات ناصر جلد اول ۲۷۰ خطبہ جمعہ ۲۰ مئی ۱۹۶۶ء ۷۶ سال بعد ایک سربراہ مملکت کو ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا اور یہ ۷۶ سال کا زمانہ یقیناً تین سوسال کے زمانہ کی نسبت بہت کم ہے۔ایک چوتھائی (۱/۴) وقت بنتا ہے۔پس یوں تو یہ زمانہ اتنا قریب نہ تھا جیسے کہ پیشگوئی میں واضح کر دیا گیا تھا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کی فتوحات کے مقابلہ میں اس فتح کا زمانہ یقیناً بہت قریب کا زمانہ ہے کیونکہ ۷۶ اور ۳۰۰ کی نسبت ۱/۴ کی ہے اور اگر اس بات کو ملحوظ رکھا جائے کہ حضور نے جوفر ما یا تھا کہ ان پیش خبریوں کو محفوظ رکھ لو کہ یہ خدا کا کلام ہے ضرور پورا ہو کر رہے گا۔یہ ۱۹۰۶ء میں فرمایا تھا اس میں بھی یہی اشارہ تھا کہ ” قریب ہے" سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ نسبتی قریب کا زمانہ ہے کیونکہ یہ الفاظ ہی آگاہ کر رہے تھے کہ یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ یہ پیشگوئی فوری طور پر پوری ہو جائے گی اور فوری طور پر ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے بلکہ اس میں واضح کر دیا گیا تھا کہ یہ پیشگوئی اپنے وقت پر جا کر پوری ہو گی حتی کہ استہزاء کرنے والوں کو استہزاء اور ہنسی اور ٹھٹھا کرنے کا موقع مل جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ سب رو کیں دور فرما دے گا اور ابتلا جاتے رہیں گے اور خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔مجھے جب یہ خط ملا تو تین دن تک میری یہ کیفیت تھی کہ میں اپنے آپ کو اپنے میں محسوس ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ دن رات اللہ تعالیٰ کی مجسم حمد بنا ہوا تھا۔خصوصاً اس خیال سے کہ قربانیاں کرنے والے مجھ سے پہلے گزر گئے اور پہلی چمکار میرے وقت میں آکر ظاہر ہوئی اور گو یہ خط مجھے ۱/۱۵ پریل کے قریب مل چکا تھا لیکن شدت جذبات کی وجہ سے مجھ میں ہمت نہ تھی کہ میں اس کے متعلق جماعت کے سامنے فورا ہی کچھ بیان کرسکوں۔اس چمکار کو دیکھنے کے لئے مختلف نسلوں نے قربانیاں دیں۔پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک نسل نے قربانی دی۔پھر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک نسل تھی جس نے قربانی دی۔پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت کی ابتداء میں ایک نسل تھی جس نے قربانی دی۔پھر ۱۹۳۴ء میں ایک اور نسل نے تحریک جدید کی قربانی دی۔اس کے بعد ایک اور نسل آئی جس نے دفتر دوم کی شکل میں قربانی دی۔ان تین چار نسلوں کی قربانیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوشی کا یہ دن دکھایا کہ یہ الہام جس نے