خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 245
خطبات ناصر جلد اول ۲۴۵ خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۶۶ء آمد کم تھی اس کی وجہ سے مجھے بڑی گھبراہٹ اور فکر لاحق تھی۔ہمارا حقیقی دشمن شیطان ہے اور وہ بڑا چوکس ہے اور اس کی شرارت اور دجل بھی کمال کا ہے۔اس لئے میں ڈرتا تھا کہ اگر ہمارے سال رواں کا بجٹ پورا نہ ہوا تو فوراً بعض دلوں میں شیطان یہ وسوسہ ڈالے گا اور انہیں یہ کہہ کر خوش کرنے کی کوشش کرے گا کہ دیکھو جماعت کا قدم ترقی کی بجائے تنزل کی طرف جانا شروع ہو گیا ہے اور پھر ہمارے مخالف اس سے یہ نتیجہ نکالیں گے کہ جماعت ان رفعتوں کو حاصل نہ کر سکے گی کہ جن کے حصول کا اسے دعوئی ہے اور جن کے حصول کی خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے بشارت بھی مل چکی ہے۔شیطان اس بات کو لوگوں سے چھپائے گا کہ تمبر کی جنگ میں ہماری بہت سی جماعتیں جو ضلع سیالکوٹ اور لاہور وغیرہ میں تھیں بُری طرح متاثر ہوئی ہیں اور اپنا سارا مال ومتاع چھوڑ کر انہیں اپنے علاقہ سے ہجرت کرنی پڑی اور اس وجہ سے وہ اپنے چندے پوری طرح ادا نہ کر سکیں۔وہ اس امر کو بھی دنیا سے چھپائے گا کہ جنگ کی وجہ سے جماعت کے بہت سے تاجروں پر بھی بُرا اثر پڑا اور ان کی تجارت کی حالت وہ نہ رہی جو جنگ سے پہلے تھی اور چونکہ ان کی آمدنی کم ہو گئی اس لئے لازماً اسی نسبت سے جماعت کے چندے بھی کم ہو گئے۔پس مجھے خیال ہوا کہ ان تمام باتوں کو نظر انداز کر کے شیطان بعض لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالے گا کہ دیکھو جماعت تنزل کی طرف جھک گئی ہے اور اب یہ وہ ترقیات حاصل نہ کر سکے گی جن کے متعلق اسے دعوی ہے کہ انہیں خدا تعالیٰ نے اس کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور اس کا یہ دعوی پورا نہ ہوگا کہ یہ جماعت تمام اطراف عالم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا گاڑ نے میں کامیاب ہو گی۔اس گھبراہٹ کے نتیجہ میں ایک طرف تو میں نے اپنے رب سے دعا کی اور دوسری طرف اپنے بھائیوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے میری دعاؤں کو بھی سنا اور اس سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور دیگر مقدس ہستیوں کی دعاؤں کو سنا جو وہ دن رات جماعت کی ترقی کے لئے کرتے رہے اور اس نے ہم پر بڑا ہی فضل کیا۔کیونکہ ۵ رمئی ۲۶ ء کی رپورٹ