خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 244 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 244

خطبات ناصر جلد اول ۲۴۴ خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۶۶ء اور خدا تعالیٰ نے اسے عزت کے ایسے مقام تک پہنچادیا کہ اس کے ساتھ کسی ذلت کا تصور بھی ممکن نہیں اور اسے صفات الہیہ کا ایسا عرفان حاصل ہوا کہ جس کے ساتھ کوئی جہالت نہیں ہے۔تو اس آیت میں فرمایا کہ آؤ اس فلاح کا ایک نسخہ تمہیں بتاؤں اور وہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے دل کے بخل سے بچایا جاتا ہے۔وہی دنیا اور آخرت دونوں میں مفلح ( فلاح پانے والا ) ہوتا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ دل کے بخل سے نجات کس طرح ہو۔اس کے جواب کے لئے فرمایا۔فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَ أَنْفِقُوا خَيْرًا لَّا نُفُسِكُمْ کہ جہاں تک ہو سکے اپنی طاقت، قوت اور استعداد کے مطابق تقویٰ کی راہوں پر چلتے رہو اور تقویٰ یہ ہے کہ وَاسْمَعُوا وَ أَطِیعُوا کہ اللہ تعالیٰ کی آواز کو سنو اور لبیک کہتے ہوئے اس کی اطاعت کرو۔اگر تم تقویٰ کی راہوں پر چل کر سبعا وَ طَاعَةٌ کا نمونہ پیش کرو گے۔تو تمہیں اللہ تعالیٰ اس بات کی بھی توفیق دے گا کہ تم اپنی جانوں، مالوں اور عزتوں سب کو اس کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اس طرح تمہیں دل کے بخل سے محفوظ کر لیا جائے گا۔یہی کامیابی کا راز ہے۔اس نسخہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے خوب سمجھا اور پھر اس پر خوب عمل کیا دیکھو دنیا میں بھی انہیں ایسی کامیابی نصیب ہوئی کہ کسی اور قوم کو ویسی کامیابی نصیب نہیں ہوئی اور اسی زندگی میں ان کو آئندہ کے متعلق ایسی بشارتیں ملیں کہ کسی اور قوم کو ان کا حقدار قرار نہیں دیا گیا یا پھر اس نسخہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت نے سمجھا اور اس کے مطابق عمل کر کے حقیقی کامیابی اور فلاح کے حصول کے لئے جدو جہد کی اور کر رہی ہے اور آئندہ بھی اسی راہ پر گامزن رہے گی۔انشاء اللہ آج جس وجہ سے میں نے آیہ مذکورہ پڑھی ہے اور اپنے بھائیوں کو اس کے مضمون کی طرف متوجہ کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ پچھلے ماہ کی ۸ تاریخ کو میں نے ایک خطبہ دیا تھا اور جماعت کو تحریک کی تھی کہ چونکہ ہمارا مالی سال ختم ہو رہا ہے صرف تین ہفتے باقی ہیں۔اس لئے اپنے بجٹ کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔۱۸ پریل کو ہمارے بجٹ کی پوزیشن یہ تھی کہ بجٹ ۲۵٫۲۴,۲۸۰ روپے کا تھا اور اس کے مقابل آمد مبلغ ۲۱٫۵۷,۷۸۷ روپے تھی یعنی بجٹ کے مقابل قریباً ساڑھے تین لاکھ روپیہ