خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 239

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۳۹ خطبہ جمعہ ۲۹ ۱٫ پریل ۱۹۶۶ء ست ہے وہ متکبر ہے کیونکہ قوتوں اور قدرتوں کے سر چشمہ کو اس نے شناخت نہیں کیا اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھا ہے۔سو تم اے عزیزو! ان تمام باتوں کو یا درکھو ایسا نہ ہو کہ تم کسی پہلو سے خدا تعالیٰ کی نظر میں متکبر ٹھہر جاؤ اور تم و خبر نہ ہوا ایک شخص جو اپنے ایک بھائی کے ایک غلط لفظ کی تکبر کے ساتھ تصحیح کرتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے ایک شخص جو اپنے بھائی کی بات کو تواضع سے سننا نہیں چاہتا اور منہ پھیر لیتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے ایک غریب بھائی جو اس کے پاس بیٹھا ہے اور وہ کراہت کرتا ہے اس نے بھی تکبر سے حصہ لیا ہے۔ایک شخص جو دعا کرنے والے کو ٹھٹھے اور ہنسی سے دیکھتا ہے اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی پورے طور پر اطاعت کرنا نہیں چاہتا اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے اور وہ جو خدا کے مامور اور مرسل کی باتوں کو غور سے نہیں سنتا اور اس کی تحریروں کو غور سے نہیں پڑھتا۔اس نے بھی تکبر سے ایک حصہ لیا ہے سو کوشش کرو کہ کوئی حصہ تکبر کا تم میں نہ ہو ، تا کہ ہلاک نہ ہو جاؤ اور تا تم اپنے اہل وعیال سمیت نجات پاؤ خدا کی طرف جھکو اور جس قدر دنیا میں کسی سے محبت ممکن ہے تم اس سے کرو اور جس قدر دنیا میں کسی سے انسان ڈر سکتا ہے تم اپنے خدا سے ڈرو۔پاک دل ہو جاؤ اور پاک ارادہ اور غریب اور مسکین اور بے شر، تا تم پر رحم ہو۔“ تکبر کا اظہار بھی کئی طریق سے ہوتا ہے کبھی تکبر آنکھ کی کھڑکی سے سر نکالتا ہے کبھی سر کی جنبش میں اس کا پھریرا لہراتا ہے۔کبھی ہاتھ ، پاؤں اور زبان اس کے آلہ کار بنتے ہیں۔ان سب سے بچنا ہمارے لئے ضروری ہے تاکہ تکبر کا جن ہمارے نفسوں سے ایسا نکلے کہ پھر دوبارہ داخل ہونے کی سب راہیں اس کے لئے مسدود ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں :۔تکبر کئی قسم کا ہوتا ہے۔کبھی یہ آنکھ سے نکلتا ہے جبکہ یہ دوسرے کو گھور کر دیکھتا ہے تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے کبھی زبان سے نکلتا ہے اور کبھی اس کا اظہار سر سے ہوتا ہے اور کبھی ہاتھ اور پاؤں سے بھی ثابت