خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 9
خطبات ناصر جلد اوّل ۹ خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء وقت انتخاب وہ اپنا وجود کلیۂ کھو بیٹھے تھے اور کسی اور کی گرفت میں تھے اور وہی کچھ کر رہے تھے جو خدا ان سے کروانا چاہتا تھا۔تو اس طرح آپ دوستوں نے خدا تعالیٰ کے حضور یہ سفارش کی کہ اس عاجز بندے (خاکسار ناصر احمد ) کو وہ اگر پسند کرے تو آپ کا ایک خادم بنا دے اور خدا تعالیٰ نے آپ کی درخواست کو قبول کیا اور مجھے آپ کا خادم بنا دیا۔اس معنی میں خادم کہ جس طرح باپ اپنے بچوں کی خدمت کرتا ہے یا جس طرح ماں اپنے بچوں کی خدمت کرتی ہے۔ایک ماں اپنے بچے کے گوہ کے پوتڑے بھی دھوتی ہے لیکن کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ وہ چوہڑی اور حلال خور ہے۔ایک باپ اپنے بچے کو کندھے سے لگا کر جب اس کے پیٹ میں تکلیف ہو ساری رات ٹہلتا رہتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اسے سکون حاصل ہو اور وہ آرام سے سو جائے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ ایک مزدور ہے۔تو آپ بھی دعا کریں۔میں بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایک باپ سے بڑھ کر مجھے آپ کی خدمت کی توفیق دے۔ایک ماں سے بڑھ کر آپ کی خدمت کرنے کی مجھے توفیق دے اور خدا تعالیٰ کی قسم ! میں آپ سے اس کے بدلہ میں کسی چیز کی توقع نہیں رکھتا مَا سَأَلْتُكُم مِّنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى اللهِ (یونس : ۷۳) میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ جن دینی کاموں میں آپ کا تعاون ضروری ہے ان کاموں میں آپ میرے ساتھ پورا پورا تعاون کریں اور ا اپنی دعاؤں میں ہمیشہ مجھے یاد رکھیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ ہمیشہ یہ دعا کرتے رہیں گے کہ جب میں دنیا کو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور جاؤں تو وہ مجھ سے ناراض نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے کہ میں سرخرو ہو کر اس کے حضور پہنچوں اور اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں آپ کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکوں اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں آپ کے دکھوں اور غموں کو اپنی دعاؤں سے دور کرسکوں۔میں تو انتخاب کے وقت سے ہی خاص طور پر یہ دعا کر رہا ہوں کہ اے خدا میری دعاؤں کو قبول کر ! چونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے ہزاروں ایسے ہوں گے کہ چھوٹی یا بڑی تکالیف میں