خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 232
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۳۲ خطبہ جمعہ ۱/۲۲ پریل ۱۹۶۶ء ہماری ابتداء تو دونی اور چونی سے ہوئی تھی نا ؟؟ اسی طرح جو نئے آنے والے ہیں انہیں بھی تو تربیت حاصل کرنے کے لئے کچھ وقت دینا چاہیے اور ان کے متعلق غصہ کے اظہار کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ایسے ماحول سے نکل کر آئے ہیں جس میں خدا کے نام پر ایک دھیلا دینا بھی موت سمجھا جاتا تھا اور ایسے نئے ماحول میں داخل ہوئے ہیں جس میں دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی اور خدا اور رسول کے نام پر سب کچھ قربان کیا جاتا ہے۔اس لئے ان کو تربیت پاتے ہوئے کچھ وقت لگے گا۔آپ ان کا نام بجٹ میں شامل نہ کر کے انہیں تربیت سے محروم کرتے ہیں اگر بجٹ میں ان کا نام آجائے تو ہمیں علم ہے کہ یہ نئے دوست ہیں۔اگر وہ اب چونی بھی دے دیں تو ٹھیک ہے۔لیکن وہ آئندہ سال بغیر کسی کوشش اور زیادہ دباؤ کے اپنے اندر ایک نیا احساس پائیں گے کیونکہ وہ سال بھر دیکھیں گے کہ مسجد میں جو شخص ان کے دائمیں کھڑا ہوتا ہے وہ موصی ہے اور اپنی آمد کا دس فیصدی ادا کرتا ہے۔تحریک جدید اور وقف جدید اور دوسری تحریکوں میں بھی حصہ لیتا ہے اور بائیں بھی ایسے ہی لوگ کھڑے ہیں۔آخر خود بخودان کے دل میں یہ خیال پیدا ہو گا کہ ہم ان لوگوں سے کیوں پیچھے رہیں؟؟ اس طرح اللہ تعالیٰ ان پر فضل فرمائے گا اور خود بخود ان کے دل میں قربانی کے لئے جوش پیدا ہوتا جائے گا۔پس جب آپ ایسے لوگوں کو بجٹ میں شامل ہی نہیں کرتے تو وہ تربیت سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ آپ انہیں چندہ کی تحریک ہی نہیں کرتے۔اگر چہ اور بھی بہت سی تربیتی سکیمیں ہیں جن کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہتے ہیں لیکن چندہ بھی ایک اہم سکیم ہے کیونکہ ہر ماہ محصل چندہ کی وصولی کے لئے لوگوں کے پاس جاتا ہے اور تحریک کرتا ہے کہ چندہ دو۔جب کسی کا نام بجٹ میں شامل ہی نہ کیا جائے گا تو اسے تحریک کیسے کی جائے گی ؟؟؟ اسی طرح اس نے تو آپ کے ماحول میں جو اس کے لئے اجنبی تھا خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر چھلانگ لگا دی لیکن اگر آپ نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو یقیناً وہ تربیت حاصل نہ کر سکے گا اور آخر پیچھے ہٹ جائے گا تو یہ بڑا ظلم ہوگا ایسے انسان پر !!!