خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 233
خطبات ناصر جلد اول ۲۳۳ خطبہ جمعہ ۲۲ را پریل ۱۹۶۶ء پھر میں سمجھتا ہوں کہ ریسرچ کے لئے بھی یہ ایک بڑا دلچسپ مضمون ہوگا کہ مثلاً زید ۱۹۶۶ء میں احمدی ہوتا ہے اسے قاعدہ کے لحاظ سے پچاس روپے چندہ دینا چاہیے لیکن وہ کہتا ہے کہ میں صرف ایک روپیہ دوں گا ہم اسے کہتے ہیں ٹھیک ہے تم ایک روپیہ ہی دو کیونکہ اس کی تربیت نہیں ہوئی ہوتی لیکن وہ ہمارے ماحول میں رہتے ہوئے اس ایک روپیہ پر قائم نہیں رہ سکتا۔دوسرے سال وہ ایک روپیہ سے بڑھا کر پانچ ، دس پندرہ اور ہمیں روپیہ کر دے گا اور آخر پچاس روپے کی بجائے وہ ساٹھ روپے ادا کرنے لگے گا اور دو تین سال تک جب اس کی تربیت پختہ ہو جائے گی تو وہ کسی صورت میں آپ سے پیچھے رہنے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔بلکہ اس کی غیرت یہ تقاضا کرے گی کہ وہ دوسرے ساتھیوں سے آگے بڑھ جائے۔کیونکہ اسے احساس ہو گا کہ میرے ساتھی تو گزشتہ میں سال سے قربانیاں کر رہے ہیں اور میں وہ بدقسمت انسان ہوں کہ اس میں سال کے عرصہ میں میں ان کی مخالفت کرتا رہا ہوں۔اب جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر صداقت کھول دی ہے۔مجھے پچھلے دھو نے بھی دھونے ہیں اس طرح وہ آگے بڑھنے والوں سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔ایسی کئی مثالیں ہماری اسلامی تاریخ میں پائی جاتی ہیں۔پس بجٹ پورا بنا ئیں اور اس وہم ، خوف اور خطرہ کی بنا پر کہ اگر آپ نے صحیح بجٹ بنایا تو شاید آپ کی گرانٹ میں کمی ہو جائے اپنے کمزور یا نئے احمدیوں پر ظلم نہ ڈھائیں۔اگر آئندہ سال آپ اپنی آمد سے یہ ثابت کر دیں کہ جو پرانے چندہ دینے والے ہیں انہوں نے پہلے سال کی نسبت کم نہیں دیا تو پھر آپ کو پوری گرانٹ ملے گی۔مثلاً پچھلے سال ساٹھ ہزار روپیہ کا بجٹ تھا جو آپ نے سارے کمزوروں کو باہر نکال کر بنایا تھا۔اب ان کمزوروں کو شامل کر کے ایک لاکھ کا بنتا ہے۔تو اگر آپ کے نئے سال کی آمد ساٹھ ہزار روپے سے اوپر ہو گئی ہے اور کمی واقع نہیں ہوئی تو یقیناً آپ کی گرانٹ میں کمی نہیں کی جائے گی۔اس لئے سب احمدیوں کو بجٹ میں شامل کریں اس طرح ہم ان کی تربیت کی طرف متوجہ بھی ہوں گے۔ہم ان کے لئے دعائیں بھی کریں گے اور تدابیر سے بھی انہیں سمجھانے کی کوشش کریں گے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ہمارا رب آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں ایک نیک تبدیلی پیدا