خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 220
خطبات ناصر جلد اول ۲۲۰ خطبہ جمعہ ۱۵ را پریل ۱۹۶۶ء منکر اور مخالف لوگ اپنا پورا زور لگاتے ہیں کہ وہ مومنوں کو دکھ اور تکلیف پہنچائیں اور اس وقت ظاہر ہوتا ہے کہ کون اپنے ایمان میں صادق ہے اور کون کا ذب ہے۔فرمایا کہ یا درکھنا کہ لوگوں کا عذاب تو عارضی ہے وقتی ہے بڑا ہلکا ہے اس کے مقابل پر میرا عذاب بڑا لمبا اور بڑا شدید ہے جو ایک لمحہ کے لئے بھی تمہارے سامنے آ جائے تو تم دس ہزار سال تک لوگوں کے عذاب کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔الغرض یہ تین قسم کے فتنے یا آزمائشیں یا امتحان ہیں جن میں سے خدا تعالیٰ کے مومن اور متقی بندوں کو گزرنا پڑتا ہے۔ہم بھی اللہ تعالیٰ کے ایک مامور پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے خدا کی آواز پر لبیک کہا ہے اور ہمارے دلوں میں بھی یہ جذبہ اور تڑپ ہے کہ ہم اس ایمان کے جو تقاضے ہیں وہ پورا کرنے والے ہوں اور اس مقصد کو حاصل کرنے والے ہوں جس مقصد کے لئے سلسلہ عالیہ احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے یعنی دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کر دینا اور قرآن کریم کی تعلیم کو تمام بنی نوع انسان تک پہنچا کر انہیں قائل کرنا که فلاح حقیقی حاصل کرنے کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے جو قرآن کریم کی تعلیم پر عمل پیرا ہونا ہے تو ہمارے لئے بھی ان تینوں فتنوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا ضروری ہے۔پہلی آزمائش اور امتحان کہ قرآنی احکام پر عمل پیرا ہوں۔نماز با جماعت ہی کو لے لو۔ہر دو ایک گھنٹہ کے بعد اپنے کام، اپنے آرام یا مجلس کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے گھر آنا۔پھر راتوں کو اُٹھ کر خدا تعالیٰ کو یاد کرنے والے جو ہیں وہ اپنے جسم کی آسائش کو خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑتے ہیں۔اس کے علاوہ مال ہیں ان کے کمانے پر بھی پابندیاں اور ان کے خرچ پر بھی پابندیاں ہیں جہاں مال حرام کے ہر طریق سے خدا نے روکا وہاں مال حلال کے ہر قسم کے خرچ پر پابندیاں لگا دیں جس کے نتیجہ میں اس کے فضل اور برکتیں حاصل ہو جاتی ہیں اگر سوچا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔دیکھو بیوی سے محبت کرنا تو بظاہر ایک دنیوی چیز ہے لیکن ہمیں ثواب پہنچانے کی خاطر اسلام یہ کہتا ہے کہ اگر تم اس نیت کے ساتھ کہ خدا تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ اپنے گھروں کے ماحول کو خوشگوار بناؤ اپنی بیوی اور بچوں سے پیار کرو اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی ڈالو گے تو