خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 6

خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء آپ نے یہ پیشگوئی ۱۹۱۴ء میں کی تھی۔کہ اس وقت ہمیں جماعت میں شدید تفرقہ نظر آتا ہے۔اور شماتت اعداء کا باعث بن رہا ہے۔اور دشمن خوش ہیں اور خوشی سے بغلیں بجار ہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام دعاوی اور جماعت احمدیہ کی ترقی کی تمام پیشگوئیاں غلط ہوتی نظر آ رہی ہیں۔جو جماعت اس طرح متفرق ہو جائے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔اور آپس میں اختلاف کرنے لگ جائے۔اور پراگندہ ہو جائے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔لیکن حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی وقت یہ بھی فرما دیا تھا، کہ تم دعاؤں میں لگ جاؤ اور میں تمہیں بتا تا ہوں کہ یہ خوشی دشمن صرف ایک دفعہ دیکھ سکتا تھا اور وہ اس نے دیکھ لی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کرے گا کہ دشمن تھوڑا بہت حملہ تو کرے گا۔شاید تھوڑا بہت نقصان بھی پہنچا دے احمدیوں کو تکلیفیں بھی دے سکتا ہے ان سے ایثار اور قربانی کے مطالبے بھی اس کے مقابلہ میں کئے جاویں گے لیکن یہ تم کبھی نہ دیکھو گے کہ ۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء والا تفرقہ اور پراگندگی جماعت میں دشمن کو پھر نظر آئے۔اب جب خود آپ کا وصال ہوا۔تو ہم اس کے بعد کے دنوں کے حالات کو دیکھتے ہیں۔ہر احمدی ایک موت کی سی حالت دیکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ہر ایک احمدی کے دل میں حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ کی اتنی محبت پیدا کی تھی اور پھر آپ کو احباب جماعت پر اس کثرت اور وسعت کے ساتھ احسان کرنے کی ، ان کے غموں میں شریک ہونے کی ، ان کی خوشیوں میں شامل ہونے کی ، ان کی ترقیات کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرنے کی اس قدر توفیق دی تھی کہ ہر شخص سمجھتا تھا کہ گویا آج میری ہی موت کا دن ہے۔بعض احمدی حضور کی اس بیماری کے دوران اپنی کم علمی کی وجہ سے بعض نادانی کی وجہ سے بعض کمزوری کی وجہ سے اور شاید بعض شرارت کی وجہ سے بھی اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے جو ہمارے کانوں میں بھی پڑتی تھیں کہ گویا جماعت میں بڑا تفرقہ پیدا ہو چکا ہے لیکن یہ باتیں اس وقت سے پہلے تھیں۔جب اس موہومہ تفرقہ نے اپنا چہرہ دنیا کے سامنے دکھانا تھا جب وہ وقت آیا تو وہ لوگ جو یہاں تھے وہ گواہ ہیں اور ان میں سے ہر ایک شخص شاہد ہے اس بات کا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتوں کی