خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 7 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 7

خطبات ناصر جلد اول خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء فوج بھیجی ہے اور اس نے جماعت احمدیہ پر قبضہ کر لیا ہے اور جس طرح گڈریا بھیٹروں کو گھیر لیتا ہے۔اسی طرح اس فوج نے ہم سب کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کہا کہ ہمیں اس لئے بھیجا گیا ہے۔کہ ہم تمہیں بھٹکنے نہ دیں۔اس وقت کسی کے دماغ میں یہ خیال نہ تھا کہ کون خلیفہ منتخب ہوتا ہے یا کون نہیں۔لیکن ہر دل یہ جانتا تھا۔کہ خلافت قائم رہے گی اور خلیفہ منتخب ہو گا اور خلافت کی برکات ہم میں جاری وساری رہیں گی۔چند دن پہلے ہماری ایک احمدی بہن نے خواب دیکھی۔غالباً حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات سے دو دن یا تین دن پہلے کی بات ہے۔یعنی اس شام سے پہلی رات جب یہاں اجتماعی دعا ہوئی ہے اس بہن نے خواب یہ دیکھی کہ مسجد مبارک میں بہت سے احمدی جمع ہیں اور بڑی گریہ وزاری کے ساتھ دعا کر رہے ہیں۔وہ کہتی ہے کہ جب میں نے مغرب کی طرف نگاہ کی تو میں نے دیکھا کہ سینکڑوں، ہزاروں فرشتے سفید لباس میں ملبوس بڑی تیزی کے ساتھ دوڑتے چلے آ رہے ہیں اور وہ دعا کرنے والے انسانوں کے ساتھ شامل ہو گئے ہیں اور اس طرح اپنے رب کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں کرنے لگ گئے ہیں۔اس دن تو ہم نے یہ خیال کیا کہ اگر خدا چاہے۔اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے تو وہ حضور کو صحت عطا کر سکتا ہے۔وہ بڑی طاقتوں اور قدرتوں والا ہے۔چنانچہ یہاں اجتماعی دعا کا انتظام کیا گیا۔اور بڑی گریہ وزاری کے ساتھ دعا کی گئی۔لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ جو نظارہ اس دن اس کو دکھایا گیا۔وہ اس اجتماعی دعا کے وقت کا نظارہ نہ تھا۔بلکہ اس شام کا نظارہ تھا۔( مغرب کے بعد کا) جس شام کو مجلس انتخاب کے ممبر مسجد مبارک کے اندر مشورہ کر رہے تھے اور بوجہ ممبر ہونے کے میں اور خاندان کے بعض دوسرے افراد بھی اس میں شامل تھے۔لیکن خدا شاہد ہے کہ اس کا رروائی کا بیسواں حصہ بھی میرے کان میں نہیں پڑا۔کیونکہ ہم لوگ پیچھے بیٹھے یہ دعا کر رہے تھے کہ اے خدا! جماعت کو مضبوط اور مستحکم بنا اور خلافت کو قائم رکھ! اور دل میں یہ عہد کیا تھا کہ جو بھی خلیفہ منتخب ہو گا۔ہم اس سے کامل اتباع اور اطاعت کا حلف اٹھائیں گے اور جماعتی اتحاد اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ دیکھ کر خوشی خوشی ہم