خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 184 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 184

خطبات ناصر جلد اول ۱۸۴ خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۶۶ء مقامی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ دور کے علاقہ سے ہمارے پاس آیا ہے اور اس طرح ایک فضا صلح کی پیدا ہو جائے گی۔پھر بہت سے کام ایسے ہیں جو ایک طرف جماعتی ترقی کا باعث بن سکتے ہیں تو دوسری طرف حکومت وقت کے ساتھ تعاون کا بھی ایک ذریعہ ہوتے ہیں مثلاً آج کل پاکستان کی حکومت زرعی پیداوار بڑھانے کی طرف متوجہ کر رہی ہے تا ہمیں باہر سے غلہ نہ منگوانا پڑے اور ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔پس ایسے دوست جو زراعت کے ان مسائل کا علم رکھتے ہوں یا وہ ان سے واقفیت حاصل کر لیں اور پھر وہ اپنا وقت بھی وقف کریں۔وہ جن جگہوں پر جائیں گے وہاں زمینداروں کو یہ بھی ترغیب دیں گے کہ وہ زیادہ سے زیادہ غلہ پیدا کریں اور انہیں بتا ئیں گے کہ وہ اپنی زمینوں سے زیادہ پیداوار کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔اس طرح حکومتِ وقت کے ساتھ تعاون بھی ہو جائے گا اور جماعتی ترقی کے سامان بھی ہو جائیں گے، کیونکہ جتنا مال اللہ تعالیٰ جماعت کو عطا کرے گا اتنا ہی زیادہ وہ بڑھ چڑھ کر مالی قربانیاں کرنے کی توفیق پائے گی۔غرض اس قسم کے کام ان دوستوں سے لئے جائیں گے جو میری اس تحریک پر اپنے اوقات وقف کریں گے۔دوست جلد اس طرف متوجہ ہوں اور اپنے اوقات وقف کریں۔میں چاہتا ہوں کہ آئندہ مئی کے مہینہ سے یہ کام شروع کر دیا جائے جو دوست گورنمنٹ یا کسی اور ادارہ کے ملازم ہیں ان کو سال میں کچھ عرصہ کی رخصتوں کا حق ہوتا ہے وہ اپنی یہ رخصتیں اپنے لئے یا اپنوں کے لئے لینے کی بجائے اپنے رب کے لئے حاصل کریں اور انہیں اس منصوبہ کے ماتحت خرچ کریں۔اسی طرح کالجوں کے پروفیسر اور لیکچرار ، سکولوں کے اساتذہ کالجوں کے سمجھدار طلباء بھی اپنی رخصتوں کے ایام اس منصوبہ کے ماتحت کام کرنے کے لئے پیش کریں۔سکولوں کے بعض طلباء بھی اس قسم کے بعض کام کر سکتے ہیں، کیونکہ سکولوں کے بعض طلباء ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی صحت اور عمر کے لحاظ سے اس قابل ہوتے ہیں کہ اس قسم کی ذمہ داریاں ادا کرسکیں۔ان کو بھی اپنے نام اس تحریک کے سلسلہ میں پیش کر دینے چاہئیں بشرطیکہ وہ اپنا خرچ برداشت کر سکتے ہوں کیونکہ میں اس سکیم کے نتیجہ میں جماعت پر کوئی مالی بار نہیں ڈالنا چاہتا۔غرض جو دوست اپنے خرچ پر کام کر سکتے ہوں اور