خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 185
خطبات ناصر جلد اول ۱۸۵ خطبہ جمعہ ۱۸ / مارچ ۱۹۶۶ء جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے خرچ پر کام کرنے کی توفیق عطا کرے۔ان کو اس منصو بہ میں رضا کارانہ خدمات کے لئے اپنے نام پیش کر دینے چاہئیں۔یہ کام بڑا اہم اور ضروری ہے اور اس کی طرف جلد توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جن میں، یا مجھے یوں کہنا چاہیے کہ ان کے ایک حصہ میں ، ایک حد تک کمزوری پیدا ہو گئی ہے اور اس کمزوری کو دور کرنا اور جلد سے جلد دور کرنا ہمارا پہلا فرض ہے اگر ہم تبلیغ کے ذریعہ نئے احمدی تو پیدا کرتے چلے جائیں لیکن تربیت میں بے توجہی کے نتیجہ میں پہلے احمدیوں یا نئی احمدی نسل کو کمزور ہونے دیں تو ہماری طاقت اتنی نہیں بڑھ سکتی جتنی اس صورت میں بڑھ سکتی ہے کہ پیدائشی احمدی، پرانے اور نو احمدی بھی اپنے اخلاص میں ایک اعلیٰ اور بلند مقام پر فائز ہوں پھر ہماری یہ کوشش ہو کہ وہ لوگ جو صداقت سے محروم ہیں ان تک صداقت پہنچے اور ہم دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اس صداقت کے قبول کرنے کی توفیق عطا کرے۔غرض جو منصوبہ میں نے اس وقت جماعت کے سامنے بڑے مختصر الفاظ میں پیش کیا ہے وہ تربیتی میدان کا منصوبہ ہے، ہمیں اس پر عمل کر کے سب جماعتوں اور سارے احمدیوں کو تد بیر اور دعا کے ذریعہ سے چست کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔وَمَا التَّوْفِيقُ إِلَّا بِاللهِ - روزنامه الفضل ربوه ۲۳ مارچ ۱۹۶۶ صفحه ۲ تا ۳)