خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 159
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۵۹ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء پھندے میں پھنس جاتے ہیں اور اس کی بات کو مان لیتے ہیں۔لیکن جونہی انہیں ہوش آتا ہے ان کے دل میں ندامت کا شدید احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنی غلطی کو دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں وہ اپنے رب کے حضور جھکتے اور کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہم تیرے بندے ہیں لیکن شیطان کے بہکانے میں آگئے تھے اور ہم سے کچھ گناہ سرزد ہو گئے ہیں۔ہم تجھ سے امید رکھتے ہیں کہ تو ہمارے ان گناہوں کو معاف کر دے گا اور پھر نئے سرے سے ہمیں عبودیت کے اس مقام پر کھڑا کر دے گا جس مقام کے لئے تو نے ہمیں پیدا کیا ہے۔گناہ کے متعلق یہ یادرکھنا چاہیے کہ یہ پیدا ہی اس وقت ہوتا ہے جب دل کے اندر شیطان کے وسوسہ ڈالنے کی وجہ سے غیر اللہ کی محبت پیدا ہو جاتی ہے اور غیر اللہ کی محبت دنیا میں ہزاروں شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے کبھی بچوں کی محبت غلو اختیار کر جاتی ہے، کبھی اموال کی محبت اپنی حدود کے اندر نہیں رہتی ،کبھی رشتہ داری کی بیچ ہوتی ہے، کبھی قومی فخر نیکیوں کے رستہ میں حائل ہو جاتا ہے اور کبھی انسان اپنی بری عادتوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتا یہ سب چیزیں ایک ایسی محبت سے تعلق رکھتی ہیں جو خدا تعالیٰ کی محبت نہیں کہلاتی۔بلکہ غیر اللہ کی محبت کے نام سے اسے یاد کیا جا سکتا ہے اور یہ غیر اللہ کی محبت آہستہ آہستہ دلوں پر قبضہ کر لیتی ہے۔پہلے ایک غلطی ہوتی ہے پھر دوسری پھر تیسری اسی طرح ایک کے بعد دوسری غلطی ان سے ہوتی رہتی ہے اور وہ دل جو خدا تعالیٰ کی محبت کے لئے بنایا گیا تھا اور وہ دماغ جس میں خدا تعالیٰ کی محبت کے سوا کسی اور کی محبت کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تھی وہ غیر اللہ کی محبت میں بری طرح پھنس جاتا ہے اس طرح ان لوگوں کے دل و دماغ اور فطرت صحیح استقامت کے مقام سے ہٹ جاتی اور دور ہو جاتی ہے لیکن استقامت اور ثبات قدم، ایمان اور روحانی مدارج کے حصول کے لئے نہایت ضروری ہے۔استقامت کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے عین محل اور مقام پر رکھنا گو یا وضعُ الشَّيْءِ في مَحَلَّہ کا نام ہی استقامت ہے یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہیئت طبعی کا نام استقامت ہے یعنی جس شکل اور جس رنگ میں اور پھر جس طور پر اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو پیدا کیا ہے اگر وہ طبعی حالت پر قائم رہے تو کہا جائے گا یہ چیز استقامت رکھتی ہے یا یہ چیز مستقیم ہے لیکن جب وہ چیز اپنی طبیعت اور فطرت کے تقاضوں سے دور چلی جائے یا وہ انہیں پورا نہ کر رہی ہو تو وہ چیز استقامت سے ہٹ