خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 158 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 158

خطبات ناصر جلد اول ۱۵۸ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء ہوتے ہیں اور بہت سی منافقانہ حرکتیں بھی ان سے ہوتی رہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ وہ بدیاں کرنے اور منافقانہ چالیں چلنے کے بعد اپنے دل میں ندامت کا احساس پیدا نہیں کرتے بلکہ مردُوا عَلَى النِّفَاقِ ( التوبة : ۱۰۱) وہ اصرار کے ساتھ اپنے نفاق پر قائم رہتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ کا معاملہ ان سے جدا گانہ ہو گا اور ان کے وہ اعمال جو دنیا کی نگاہ میں بظاہر نیک ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کا درجہ حاصل نہ کر سکیں گے ان سے ملتے جلتے کچھ اور لوگ بھی ہیں جو حقیقی مومن ہیں وہ بہت سے اچھے نیک اور پاکیزہ اعمال بجالاتے ہیں لیکن ان کے ساتھ ہی ان سے بعض خطائیں بھی سرزد ہوتی ہیں غفلتیں بھی ہوتی ہیں ان سے بھول چوک بھی ہو جاتی ہے اور ان کے اعمال صالحہ کے ساتھ ساتھ ایسے اعمال بھی شامل رہتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے وَآخَرَ سَینا کے الفاظ سے یاد کیا ہے لیکن چونکہ ان کے دل میں نفاق نہیں ہوتا بلکہ ان کے دلوں میں حقیقی ایمان پایا جاتا ہے۔اس لئے بدی کے ارتکاب کے بعد ان کے دلوں میں احساس ندامت پیدا ہوتا ہے اور وہ امید رکھتے ہیں کہ اگر وہ تو بہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرے گا اور اسی امید، توقع اور یقین کی بنا پر جب بھی ان سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے اور جب بھی وہ کسی گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں وہ اپنے رب کی طرف لوٹتے ہیں ، اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور تو بہ کے ذریعہ اس رب غفور کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو قبول کرتا اور ان کے گناہوں کو معاف کر دیتا اور ان کی خطاؤں کو مغفرت کی چادر کے نیچے چھپا لیتا ہے۔یہاں یہ یادرکھنا چاہیے کہ تھوڑے ہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں کامل اور تام تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے۔اور یہ بڑے پایہ کے اولیاء قطب اور غوث کہلاتے ہیں۔لیکن نیکوں کی اکثریت ایسے ہی لوگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو بشری کمزوری کے سبب اپنے اندر کچھ نہ کچھ خرابی رکھتے ہیں اور ان کے دین میں دنیا کی ملونی بھی ہوتی ہے۔اس اکثریت کے متعلق ہی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ بے شک بندہ کمزور ہے بے شک یہ حقیقت ہے کہ ہم نے بندوں کے ساتھ شیطان بھی لگایا ہوا ہے جو انہیں ہر وقت ورغلاتا رہتا ہے اور باوجود ایمان کے وہ بعض دفعہ اس کے