خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 145 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 145

خطبات ناصر جلد اول ۱۴۵ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء کے وارث وہ پندرہ دن ایک ماہ یا دو پہلے کیوں نہیں بنتے پس اگر وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے تو وہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔پھر اپنا دوسرا نقصان وہ یہ کرتے ہیں کہ انسان کی زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اسے کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ اس نے کب اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے زندگی اور موت کا مسئلہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے بعض اوقات ایک انسان چنگا بھلا ہوتا ہے وہ ہنستا کھیلتا ہوتا ہے لیکن ایک سیکنڈ کے بعد وفات پا جاتا ہے۔اگر آپ تحریک جدید کے وعدے لکھوانے میں ستی سے کام لیتے ہیں تو کتنا خطرہ مول لے رہے ہیں آپ کو کیا معلوم کہ اس عرصہ میں آپ نے زندہ رہنا ہے یا وفات پا جانا ہے اگر آپ اس عرصہ میں وفات پاگئے تو اُخروی زندگی میں جو ثواب اس چندہ کے دینے کی نیت سے حاصل ہوسکتا ہے اس سے محروم ہو گئے۔تیسرا نقصان جو وعدے جلد نہ لکھوانے کی وجہ سے آپ کو پہنچتا ہے یہ ہے کہ اگر اس سال مثلاً وعدے لکھوانے کی تاریخ ۲۸ فروری ہو اور اس تاریخ تک جیسا کہ دفتر کا معمول ہے دفتر والے خطوط کے ذریعہ پھر رسالوں اور اخباروں میں مضامین لکھ کر یا گشتی چٹھیوں کے ذریعہ آپ کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود جو دوست اس تاریخ تک اپنے وعدے نہیں لکھواتے انہیں یاد دہانی کرانے پر دفتر جو زائد اخراجات برداشت کرے گا وہ بہر حال ناواجب ہوں گے اور ایسے اخراجات کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہوگی جنہوں نے مقررہ تاریخ تک اپنے وعدے نہیں لکھوائے فرض کرو یہ زائد خرچ کل وعدوں کا دو فیصدی ہے تو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ سوروپے کے ثواب کی بجائے وعدہ دیر سے لکھوانے والے کو دو کم سوکا ثواب نہ دے کیونکہ دوروپے کا زائد خرچ محض اس کی سستی کی وجہ سے مرکز نے برداشت کیا ہے شاید اللہ تعالیٰ یہ کہے کہ تمہاری وجہ سے سلسلہ کو دو روپے کا نقصان ہوا ہے اس لئے ہم تمہارے ثواب سے اسی قدر کم کر دیتے ہیں غرض دفتر کو جو زائد اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔وہ محض آپ کی سستی کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔اگر آپ وقت مقررہ میں وعدے لکھوا دیں اور پھر جلد رقم ادا کر دیں تو دفتران زائد اخراجات سے بچ جاتا ہے۔