خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 144 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 144

خطبات ناصر جلد اوّل ۱۴۴ خطبه جمعه ۱۸ / فروری ۱۹۶۶ء زیادتی ہوئی ہے لیکن جون کے آخر تک وعدے آتے رہے۔حالانکہ وعدوں کی آخری تاریخ اس سے کہیں پہلے ختم ہو چکی تھی۔اس سال بھی وعدوں کی وصولی کی تاریخ ۲۸ فروری ہے لیکن بہت سے افراد اور بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جن کی طرف سے ابھی وعدے وصول نہیں ہوئے موٹی موٹی جماعتیں جن کی طرف سے وعدے وصول ہونے میں اس سال تاخیر ہوئی ہے اور غالباً یہ نام بطور مثال کے ہیں۔یہ ہیں ان میں پہلی جماعت ربوہ ہے۔گزشتہ سال یعنی تحریک جدید دفتر اول کے اکتیسویں اور دفتر دوم کے اکیسویں سال میں جماعت ربوہ کے وعدے اکسٹھ ہزار روپے کے تھے اور سال رواں میں یعنی تحریک جدید دفتر اوّل کے بتیسویں سال اور دفتر دوم کے بائیسویں سال کے وعدے صرف ۴۰ ہزار کے وصول ہوئے ہیں گویا ان میں ابھی اکیس ہزار کی کمی ہے اسی طرح سیالکوٹ ضلع کی جماعتوں کے وعدوں میں دس ہزار کی کمی ہے سرگودہا کی جماعتوں کے وعدوں میں پانچ ہزار کی کمی ہے لائل پور ضلع کی جماعتوں کے وعدوں میں چھ ہزار کی کمی ہے گجرات ضلع کی جماعتوں کی طرف سے ابھی تک چھ ہزار کے وعدے کم وصول ہوئے ہیں ملتان ضلع کی جماعتوں کے وعدوں میں ابھی پانچ ہزار کی کمی ہے اور حیدر آباد ڈویژن کی جماعتوں کے وعدے بھی ابھی ساڑھے پانچ ہزار کم وصول ہوئے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت وعدے بھی زیادہ ہوں گے اور وصولی بھی زیادہ ہوگی لیکن جو دوست وعدے لکھوانے میں سستی سے کام لیتے ہیں وہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اور وہ اس طرح کہ اسلام نے ہمیں بتایا ہے اللہ تعالیٰ مومن کی نیت پر بھی ثواب دیتا ہے لیکن اس نے ہمیں کہیں نہیں بتایا کہ انسان کی خالی خواہشات پر ثواب ملتا ہے اور جہاں تک تحریک جدید کے وعدوں اور ان کی وصولی کا سوال ہے نیت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب کوئی شخص اپنا وعدہ لکھوا دیتا ہے اور پھر دل میں پختہ عہد کر لیتا ہے کہ وہ موعودہ رقم تحریک جدید میں دے گا لیکن جو دوست وعدے لکھوانے میں پندرہ دن، ایک ماہ یا دو ماہ ستی سے کام لیتے ہیں وہ اس عرصہ میں اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضل کے ایک حصہ سے محروم کر رہے ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کا جو فضل وہ پندرہ دن ایک ماہ یا دو ماہ بعد میں لینا شروع کرتے ہیں اس فضل