خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 100
خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء آرام اور سہولت کی طرف مائل ہونا پسند کرتی ہے، اس لئے شیطان نے مسلمانوں کے ایک گروہ کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا کر دیا ہے، کہ جمعتہ الوداع کی عبادت میں شامل ہو جاؤ تو تم پر خدا تعالیٰ اور اس کے بندوں کے کوئی حقوق باقی نہیں رہتے اور تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔اس کے برعکس اسلام نے جو ہمیں تعلیم دی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اگر اپنی ساری عمر خدا تعالیٰ کی عبادت کرتا رہے اور یہ عبادت وہ اپنی طرف سے نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ ہی کیوں نہ بجالائے۔اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اپنی عبادت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کو حاصل کر لیا ہے۔اسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ جہاں تک عبادت کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے خزائن پہلے ہی بھرے ہوئے ہیں۔انسان ان خزائن میں اپنی عبادتوں میں سے کچھ مزید شامل کرے یا نہ کرے وہاں پہلے ہی اتنی عبادتیں ہیں کہ اس کی عبادتوں سے ان خزائن میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ بنی اسرائیل میں فرماتا ہے۔وَ إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمدِهِ وَ لكِن لاَ تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا - (بنی اسراءیل: ۴۵) یعنی دنیا کی ہر چیز اس کی تعریف کرتی ہوئی اس کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم ان اشیاء کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔وہ یقیناً پردہ پوشی کرنے والا اور بہت ہی بخشنے والا ہے۔گویا خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہر چیز ہر آن اور ہر لحظہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور تسبیح وتحمید میں مشغول ہے آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ صرف ہمارے جسموں میں ہی (مادی ذرات کے علاوہ کروڑوں جاندار چیزیں پائی جاتی ہیں اور وہ ساری جاندار چیز میں جو ہمارے جسموں میں پائی جاتی ہیں، اس آیہ کریمہ کے مطابق ہر وقت یعنی دن اور رات کے ۲۴ گھنٹے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تحمید میں لگی ہوئی ہیں۔اب ان ہمارے جسموں کے اندر رہنے والی کروڑوں جاندار چیزوں کی عبادت کے مقابلہ میں ہمارے اکیلے کی عبادت کیا حیثیت رکھتی ہے۔ہماری عبادت ان جاندار اشیاء کی عبادت کے کروڑو میں حصہ تک بھی نہیں پہنچتی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ متعدد دوسری آیات میں یہ بات ہمارے ذہن نشین کراتا ہے اور ہر چیز جاندار اور بے جان