خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 101

خطبات ناصر جلد اول 1+1 خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء جو میں نے پیدا کی ہے وہ میری عبادت میں لگی ہوئی ہے، وہ میری تسبیح اور تحمید بیان کر رہی ہے۔وہ میری کبریائی ، عظمت اور جلال کا اعلان کر رہی ہے اور پھر وہ ہر چیز میرے تصرف میں ہے اور میرے کہنے پر چل رہی ہے، میں جو کہتا ہوں وہ کرتی ہے اور جس چیز سے میں منع کرتا ہوں وہ چھوڑ دیتی ہے۔مثلاً آگ کو خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ تم نے پانی کا کام نہیں کرنا۔اب تم نے کبھی دیکھا ہے کہ آگ نے پانی کا کام کیا ہو اور پھر یہ بتانے کے لئے کہ آگ خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتی ہوئی اس کی اطاعت میں جلانے کا یہ فعل کر رہی ہے۔وہ بعض اوقات خود ہی اسے حکم دے دیتا ہے کہ تم پانی کا کام بھی کرو، مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دشمنوں نے آگ میں ڈالا تو اس آگ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بردا وسلمًا (الانبیاء : ۷۰) بن جانے کا حکم مل گیا۔یعنی آگ میں جلانے کی خاصیت تھی پانی کی خاصیات اس میں نہیں پائی جاتی تھیں، لیکن خدا تعالیٰ دنیا کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ آگ اگر جلانے کا کام کر رہی ہے تو محض میری اطاعت کر رہی ہے ورنہ اس کے اندر جلانے کی کوئی ذاتی قابلیت نہیں پائی جاتی۔میں جو کچھ اسے کہتا ہوں وہ وہی کرتی ہے۔اسی طرح اس کے علاوہ بھی ہر چیز میر احکم بجالاتی ہے، ورنہ اس میں کوئی ذاتی خاصیت اور قابلیت نہیں پائی جاتی۔لیکن ایک فلسفی کہہ سکتا تھا کہ یہ محض ایک دعوئی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ اس قسم کی عملی اور مجزا نہ دلیلیں مہیا کرتا ہے۔مثلاً وہ آگ کو جس میں جلانے کی خاصیت پائی جاتی ہے بعض اوقات یہ حکم دے دیتا ہے کہ تم بردا و سلبًا ہو جاؤ یعنی پانی کا کام کرو۔اب آگ نے نہ کبھی پہلے پانی کا کام کیا ہوتا ہے اور نہ بعد میں اسے یہ کام کرنا ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ اس سے بعض خاص مواقع پر پانی کا کام لے لیتا ہے اور اس سے اللہ کا یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے اور ہر چیز سے جو چاہے کام لے سکتا ہے کیونکہ ہر چیز اس کے تابع فرمان ہے وہ اس کے خلاف مرضی کوئی حرکت نہیں کرتی۔مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے تو اللہ تعالیٰ نے آگ کی جلانے کی خاصیت اس سے چھین لی اور اسے پانی کا کام کرنے کا حکم دے دیا اور اس طرح بتا دیا کہ وہ آگ چوبیس گھنٹے جلانے کا کام کرتی ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسا کرتی ہے اس میں یہ قابلیت ذاتی طور پر نہیں پائی جاتی۔اسی طرح دوسری مخلوق کا