خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 89
خطبات ناصر جلد اول ۸۹ خطبہ جمعہ ۱۴ جنوری ۱۹۶۶ء معتکفین کو حقیقی اور انتہائی خلوت میسر آنی چاہیے تا کہ وہ اپنا وقت عبادت اور دعاؤں میں گزار سکیں خطبه جمعه فرموده ۱۴ / جنوری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اسلام نے رہبانیت کی اجازت نہیں دی اسلام یہ بات جائز قرار نہیں دیتا کہ کوئی شخص دنیوی تعلقات کو کلید قطع کر کے محض خدا تعالیٰ کی عبادت کی خاطر اپنی ساری زندگی تنہائی میں گزار دے اور ان فرائض کی طرف توجہ نہ دے جو اس پر اللہ تعالیٰ نے بحیثیت ایک انسان ہونے کے عائد کئے ہیں۔رہبانیت مختلف شکلوں میں دنیا میں پائی جاتی تھی اور اب بھی پائی جاتی ہے۔عیسائیت نے یہ شکل اختیار کی کہ بعض عیسائیوں نے جو راہب بنے ، اپنی زندگیاں چرچ اور عیسائیت کے لئے وقف کر دیں اور اس شکل میں وقف کر دیں کہ ساری زندگی انہوں نے شادی نہیں کی۔عورتوں نے اپنے سر بھی منڈوا دیئے اور مختلف عبادت گاہوں میں انہوں نے اپنی زندگی کے دن گزار دیئے۔ان کی اپنی بعض مشکلات اور الجھنیں تھیں جن سے دنیا بہت کم واقف ہے لیکن جن کی وضاحت خود عیسائیوں میں سے بعض دلیر مصنفین نے کی ہے انہوں نے لکھا ہے کہ رہبانیت اختیار کرنے والوں کی زندگیاں بداخلاقیوں سے بھری پڑی تھیں کیونکہ اس قسم کی زندگی انسان کی فطرت کے خلاف ہے پھر بعض مذاہب یا بعض اقوام اور ممالک میں رہبانیت کا خیال یا