خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 998
خطبات ناصر جلد اول ۹۹۸ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۶۷ء کا ہوتا ہے نا؟ تو جس چیز سے جس علامت سے یہ ظاہر ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کے قریب ہے۔وہی بات یہ بھی بتارہی ہوگی کہ وہ بندہ بھی خدا کے فضل سے اللہ تعالیٰ کے قریب ہو گیا ہے۔یہاں جو لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ( تاکہ تم ہدایت کے صحیح مقام پر قائم ہو جاؤ ) اور فَلْيَسْتَجِيبُوانی وَلْيُؤْمِنُوا بی“ فرما یا ان کی تشریح اور تفسیر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانفال کی پچھتر ویں آیت میں کی ہے جو میں نے ابھی دوستوں کو سنائی ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِيْنَ اووا وَ نَصَرُوا أُولبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا وہاں یعنی " فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِی“ میں یہ بتایا تھا کہ مجھ پر ایمان لائیں۔یہاں اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ حقیقی ایمان لانے والے کون ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حقیقی مومن کی علامتوں میں سے ایک علامت تو امنوا عام ایمان کی بیان کی ہے ایمان کے اصل معنی زبان اور دل کے اقرار اور تصدیق کے ہیں نیز جوارح کی تصدیق یعنی عمل بھی اس دعویٰ کے مطابق ہوں۔تب حقیقی ایمان بنتا ہے۔ایک منہ کا ایمان ہے لوگ عام طور پر کہہ دیتے ہیں کہ جی ہم ایمان لائے۔صرف زبانی دعوی ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں وَهَاجَرُوا اور ان تمام باتوں سے رکے رہتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ اور وہ تمام کام کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ کرو۔وَالَّذِينَ اوو او نَصَرُوا اور اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر اسلامی معاشرہ کو وہ قائم کرتے ہیں اور وہ جو خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری میں اپنے گھروں کو چھوڑتے ہیں۔یہ لوگ ان کو اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں وَنَصَرُوا اور ہر طرح ان کی مدد کرتے ہیں تو یہ سچے مومن ہیں۔هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا۔تو سچے مومن کی پانچ نشانیاں یہاں بیان کی گئی ہیں۔ایمان کے معنی یہاں یہ ہیں کہ وہ لوگ جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کا تمام وجود ایک ایسی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔یہ ایمان ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے یعنی ہم اس اعتقاد اور یقین پر قائم ہوں کہ حقیقی وجود اللہ تعالیٰ