خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 83

خطبات ناصر جلد اول ۸۳ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۶۶ء نے تمام مسلمانوں کو بالخصوص اور تمام بنی نوع انسان کو بالعموم مخاطب کر کے بلند کی تھی۔لبیک کہتے ہوئے جماعت احمدیہ میں داخل ہو جائیں اور وہ قربانیاں پیش کریں جو خدا تعالیٰ ان سے اس وقت لینا چاہتا ہے۔صدر انجمن احمدیہ کے مختلف اداروں کو بھی اپنے کاموں کی طرف توجہ کرنی چاہیے مثلاً اصلاح وارشاد کا کام ہے۔تربیت کا کام ہے ہم ان کاموں میں ایک حد تک لکیر کے فقیر بن چکے ہیں حالانکہ وہ قو میں جو اپنے انقلابی زمانہ میں سے گزر رہی ہوتی ہیں وہ لکیر کے فقیر نہیں بنا کرتیں اور نہ وہ لکیر کے فقیر بن کر کبھی کامیاب ہوئی ہیں۔ہمیں ہر وقت بیدار اور چوکس رہنا چاہیے اور ہر شہر، ہر علاقہ اور ہر جگہ کے متعلق پہلے یہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ وہاں کس قسم کے اصلاح وارشاد کے کام کی ضرورت ہے اور پھر وہاں اس کے مطابق کام کرنا چاہیے۔اسی طرح اور بہت سی باتیں ہیں جن کی طرف نظارت اصلاح وارشاد کو توجہ کرنی چاہیے۔نظارت تعلیم اور نظارت امور عامہ کو بھی باہم مل کر ایک ضروری کام کرنا ہے اور اس کے متعلق منصو بہ بندی کرنا ہے اور وہ ضروری کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے احمدی بچوں کے دماغوں میں جلاء پیدا کی ہے اور جب مختلف تعلیمی یو نیورسٹیوں کے نتائج نکلتے ہیں تو احمدی نوجوان اپنی نسبت کے مقابل بہت زیادہ تعداد میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والے ہمیں نظر آتے ہیں۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی دین ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے جس میں ہماری کوششوں کا کوئی دخل نہیں۔اگر ہم اپنی غفلت کے نتیجہ میں اچھے دماغوں کو ضائع کر دیں تو اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم نہیں ہوگا۔پس جو طلباء ہونہار اور ذہین ہیں ان کو بچپن سے ہی اپنی نگرانی میں لے لینا اور انہیں کامیاب انجام تک پہنچا نا جماعت کا فرض ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض نہایت ذہین بچے تربیت کے نقص کی وجہ سے سکول کے پرائمری اور مڈل کے حصوں میں ہی ضائع ہو جاتے ہیں۔ان میں آوارگی اور بعض دیگر بری عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف وہ خود بلکہ جماعت بحیثیت جماعت خدا تعالیٰ کے فضلوں اور نعمتوں کا وہ پھل نہیں کھا سکتی جو اچھے دماغ پیدا کر کے خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر کیا ہے کیونکہ ہم ان دماغوں کو بوجہ عدم توجہ سنبھالتے نہیں بلکہ ضائع کر دیتے ہیں اور اس طرح بعد میں نقصان اٹھاتے ہیں اسی طرح