خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 967
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۶۷ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۶۷ء بینکوں کی رقموں نے کیا بڑھنا ہے ضائع ہونے کا تو اندیشہ ہے لیکن اس قدر بڑھاؤتی کا وہاں کوئی سامان نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے خزانہ میں تو ضائع ہونے کا کوئی اندیشہ نہیں اور بڑھاؤتی کے اتنے سامان ہیں کہ ایک روپیہ آپ کی طرف سے خدا تعالیٰ کے بینک میں جمع کرائیں گے ریزرو کے طور پر تو جس وقت وہ بڑے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کو ایک کی بجائے دس ہزار یا شاید اس سے بھی زیادہ دے گا۔بچوں کی طرف سے چونتیس ہزار آٹھ سو کے وعدے سال رواں کے ہوئے تھے جس کا یہ مطلب ہے کہ تمام احمدی بچوں کو اس طرف تو جہ نہیں دلائی گئی اور تمام احمدی ماں باپ نے اپنے بچوں کی بہبود کی طرف توجہ نہیں دی لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں اطفال و ناصرات اور چھوٹے بچے ایسے تھے جنہوں نے اس مد میں حصہ لیا۔لیکن اس وقت تک کہ دس مہینے سال کے گذر چکے ہیں وعدوں کے مقابل آمد بڑی کم ہے اور یہ بڑی فکر کی بات ہے۔آپ نے بچپن میں بچے کو یہ عادت نہیں ڈالنی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے وعدہ تو کرے مگر پورا نہ کرے آپ نے تو اس کو یہ عادت ڈالنی ہے کہ جب وہ خدا سے وعدہ کرے تو زمین و آسمان ٹل جائیں اس کا وعدہ پورا ہو اور آپ نے اس کے دل میں یہ احساس بیدا ر رکھنا ہے کہ خدا کی راہ میں جو مال دیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں جاتا بلکہ جیسا کہ ہماری تاریخ اس پر شاہد ہے ایک سے دس ہزار گنا زیادہ ہو کر وہ واپس ملتا ہے ( اس دنیا میں )۔اب سال کے دو مہینے باقی رہ گئے ہیں میں یہ درخواست کرتا ہوں اور میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جماعت اس کی طرف فوری توجہ دے گی اور پندرہ دسمبر سے پہلے پہلے تمام وعدے پورے ہو جائیں گے اطفال کے بھی اور جو بڑوں کے وعدے ہیں وہ بھی۔اس میں بھی کافی کمی ہے ہمارا بجٹ تھا دولاکھ سترہ ہزار کے قریب۔ہمارے وعدے تھے ایک لاکھ پچانوے ہزار نو سو کے قریب۔ہماری آمد دس مہینے کی ہے ایک لاکھ سینتیس ہزار۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ کم از کم ساٹھ ہزار کے قریب ان دو مہینوں میں آمد ہونی چاہیے اور بچوں کی طرف سے کم از کم بائیس ہزار آٹھ سوروپیہ آمد ہونی چاہیے۔یہ بائیس ہزار اس ساٹھ ہزار میں شامل ہیں لیکن اس سے بھی وقف جدید کی ضرورت پوری