خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 968
خطبات ناصر جلد اول ۹۶۸ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۶۷ء نہیں ہوتی کیونکہ مشاورت کے موقع پر دوستوں نے اس چیز کومحسوس کیا کہ ہمارے پاس زیادہ سے زیادہ مربی ہونے چاہئیں اور جو دوست وقف عارضی کے سلسلہ میں باہر جماعتوں میں جاتے ہیں ان میں سے بیسیوں نے مجھے خطوط لکھے کہ اس جماعت کو ضرورت ہے آپ کسی معلم کو یہاں بھجوائیں اور ہر خط کے اوپر میں فکر مند ہو جاتا ہوں کہ ضرورت ہے مگر معلم نہیں میں آدمی کہاں سے لاؤں؟؟؟ اور میں نے پہلے بھی متعدد بار تحریک کی ہے اور اب بھی تحریک کرتا ہوں کہ وقف جدید کو معلم بھی دیں ایسے معلم جو واقع میں اپنی زندگی خدا کی راہ میں وقف کرنا چاہیں۔ایسے معلم نہیں جو یہ سمجھیں کہ دنیا میں کسی اور جگہ ان کا ٹھکانا نہیں ، چلو وقف جدید میں جا کے معلم بن جائیں۔سمجھدار، دعا کرنے والے، خدا اور اس کے رسول سے محبت کرنے والے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو تفسیر قرآن بیان کی ہے اس سے دلی لگاؤ رکھنے والے، اسے پڑھنے والے یا درکھنے والے اور خدمت کا بے انتہا جذبہ رکھنے والے جس کے دل میں خدمت خلق کا جذ بہ نہیں وہ معلم نہیں بن سکتا کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ دنیوی لحاظ سے یا دینی لحاظ سے ہم اپنے بھائی کو جو کچھ بھی دیتے ہیں وہ خدمت کے جذبہ کے نتیجہ میں دیتے ہیں اس کے بغیر ہم دے ہی نہیں سکتے اپنا وقت اس کو دیں، اپنا مال اس کو دیں، اپنی زندگی اس کو دیں۔دنیا کی کسی بہبود کے لئے یا آخرت کی بہبود کے لئے جب ہم قرآن کریم اس کو سکھا رہے ہوتے ہیں جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداس کے سامنے رکھ رہے ہوتے ہیں یا ہم اس کی خاطر اس کا کوئی دنیوی کام کرانے کے لئے اس کے ساتھ باہر نکلتے ہیں ہر دو صورتیں جو ہیں وہ اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ ہمارے دل میں خدمت خلق کا جذبہ ہے۔اگر خدمت خلق کا جذبہ نہ ہو۔نہ دینی لحاظ سے نہ دنیوی لحاظ سے تو ہم اس کی خدمت کے لئے باہر نہیں نکل سکتے۔پس ہمیں ایسے بے نفس خدمت گذار معلم چاہئیں۔منصوبہ یہ ہے کہ آئندہ جنوری میں پہلے سال کی نسبت زیادہ تعداد میں آدمی لئے جائیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سالوں کی نسبت ان پر زیادہ خرچ کیا جائے اور جو منصوبہ تھا اس کے مطابق ان کو دو لاکھ سترہ ہزار روپیہ چاہیے وعدے اس سے قریباً بائیس ہزار کے کم آئے ہیں۔