خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 965 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 965

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۶۵ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۶۷ء نہیں ملتی جیسا کہ ابھی میں نے اعداد و شمار سے بتایا ہے بلکہ دس ہزار گنے زیادہ ملتی ہے ایسے خاندان بھی ہیں جماعت کے کہ ان کے والد نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جتنی قربانی دی، ان کے بچوں میں سے ایک ایک کی ماہوار آمدنی ان کی ساری زندگی کی مالی قربانی سے زیادہ تھی۔تو اللہ تعالیٰ بڑے فضلوں کا مالک ہے اور بڑے فضل کر رہا ہے اور کرنا چاہتا ہے اور اس لحاظ سے اگر ہم اندازہ لگائیں کہ اگلے پچھتر سال میں ہمارے مالوں میں کس قدر برکت پیدا ہو جائے گی ( مجموعی طور پر جماعت کے مالوں میں ) تو بے شمار رقم بن جاتی ہے۔اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو دنیا میں ایک فوقیت عطا کرے گا اور یہ ڈیڑھ سو سال کا عرصہ کوئی لمبا عرصہ نہیں ہے۔ایک آواز جوا کیلی اور تنہا آواز اور ایک غریب انسان کی آواز ، ایک ایسے انسان کی آواز تھی جو د نیوی لحاظ سے کوئی وجاہت یا اقتدار نہیں رکھتا تھا لیکن اپنے رب سے انتہائی پیار کرنے والا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اس طرح وہ محو تھا کہ اُمت مسلمہ میں ولیسی محبت اور عشق کسی امتی نے اپنے امام، اپنے محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں کی اس کو اللہ تعالیٰ نے کھڑا کیا اور کہا کہ میں دنیا میں تیرے ذریعہ سے اسلام کو پھر غالب کرنا چاہتا ہوں اور ایک ایسی جماعت تمہیں دوں گا ( يَنْصُرُكَ رِجَالُ نُوحِيَ إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ ) کہ آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے اور انہیں وحی کریں گے کہ وہ اٹھیں اور تیری خدمت میں لگ جائیں۔پھر یہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی ۱۸۹۲ء میں مگر وہ بڑھتی چلی گئی۔اپنی تعداد میں جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے ایک ہزار گنا زیادہ نہیں تین ہزار گنا زیادہ وہ ہوگئی۔اور کہا گیا تھا کہ ان کے اموال میں برکت دی جائے گی چونکہ انہوں نے خدا کی راہ میں ایسے وقت میں قربانیاں دیں جب مسلمان کہلانے والے اسلام کی خاطر مالی قربانیاں دینے میں بڑی ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے اور عملاً کوئی قربانی نہیں دے رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا کہ ان کی حقیر قربانیوں کے نتیجہ میں جو ایک روپیہ انہوں نے دیا اس کے بدلہ میں ان کو اور ان کے خاندانوں کو دس ہزار روپیہ سے بھی زائد خدا نے دیا۔اللہ تعالیٰ نے دس ہزار گنا سے بھی زیادہ