خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 964
خطبات ناصر جلد اول ۹۶۴ خطبہ جمعہ ۳/نومبر ۱۹۶۷ء جائے تو یہ رقم ایک کروڑ سے کہیں او پر نکل جاتی ہے میں ایک کروڑ کی رقم اس وقت لے لیتا ہوں۔تو ایک ہزار سے بڑھ کر ایک کروڑ تک ہماری مالی قربانیاں پہنچ گئیں۔یہ بھی دس ہزار گنا رقم بن جاتی ہے گویا ایک روپے کے مقابلہ میں دس ہزار روپے کے چندے بنتے ہیں۔یعنی ۱۸۹۲ء میں اگر جماعت نے ایک روپیہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق اپنے رب سے حاصل کی تو اسی برگزیدہ جماعت نے ۱۹۶۷ء میں دس ہزار روپیہ (اس ایک روپیہ کے مقابلہ میں ) خرچ کرنے کی اپنے رب سے توفیق پائی یہ تو چندوں کی نسبت ہے۔مگر وعدہ کیا گیا ہے کہ اموال میں برکت دی جائے گی۔اب جس نسبت سے جماعت کے اموال بڑھے ہیں وہ دس ہزار گنا سے زیادہ ہے کیونکہ ۱۸۹۲ء میں قریباً سو فیصدی مخلص تھے اور پوری قربانی دے رہے تھے خدا کی راہ میں لیکن ۱۹۶۷ء میں تعداد چونکہ بڑھ گئی ہے۔بہت سے ہم میں سے ایسے ہیں جو تربیت کے محتاج ہیں ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ آج سے ایک سال یا دو سال یا چار سال یا پانچ سال کے بعد اس ارفع مقام پر پہنچ جائیں گے جس پر اللہ تعالیٰ انہیں دیکھنا چاہتا ہے اور ان کے چندوں کی شرح اس شرح کے مطابق ہو جائے گی جو ۱۸۹۲ء میں مخلصین دیا کرتے تھے۔اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جو اموال منقولہ اور غیر منقولہ ۱۸۹۲ء کے احمدیوں کے پاس تھے آج اس کے مقابلہ میں جماعت کے مجموعی اموال منقولہ یا غیر منقولہ کی قیمت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ دس ہزار گنا سے زیادہ برکت ڈال دی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل ہم پر نازل ہورہے ہیں جس نقطۂ نگاہ سے بھی ہم دیکھتے ہیں عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔اب پچھتر سالہ عرصہ قوموں اور جماعتوں کی زندگی میں کوئی لمبا عرصہ نہیں ہے اس چھوٹے سے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت پر اپنے ایسے فضل کئے کہ ان کی تعداد اک سے ہزار ہو دیں والی دعا سے بھی بڑھ گئی اور ان کے اموال میں جو برکت اللہ تعالیٰ نے ڈالی وہ اک سے دس ہزار کی نسبت سے بڑھ گئی اس سے ہم اس صداقت تک پہنچتے ہیں کہ جماعت احمد یہ خدا کی راہ میں جو مالی قربانیاں دیتی ہے وہ ضائع نہیں جاتیں۔اس دنیا میں بھی خدا کی راہ میں دی گئی رقم تمہیں واپس مل جاتی ہے اور صرف اتنی ہی نہیں ملتی ، دگنی ہی نہیں ملتی ، دس گنے یا سو گنے ہی زیادہ