خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 954 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 954

خطبات ناصر جلد اول ۹۵۴ خطبہ جمعہ ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۷ء ضرورت تھی اس حد تک مالی قربانی دی اور تحریک جدید کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے ملکوں میں تبلیغی مشن قائم کر دیئے لیکن جوں جوں اللہ تعالیٰ کی رحمت ہم پر نازل ہوتی رہی ہماری ضرورتیں بڑھتی چلی گئیں۔نئے سے نئے میدان کامیابیوں کے ہمارے سامنے کھلتے رہے اور ان میدانوں کو فتح کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا شکر ادا کرنا جو ہمارا فرض تھا وہ ہم نے اس زمانہ میں ادا کیا۔اس وقت جماعت نے جو قربانیاں دیں اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرے بہت سے ہیں جنہوں نے قربانیاں دیں وہ اس جہاں سے رخصت ہو چکے ہیں جیسا کہ میں ابھی آگے بتاؤں گا اللہ تعالیٰ مغفرت کی چادر میں لپیٹ کے رضا کی جنت میں انہیں ہر طرح خوش رکھے اور اپنی ان رحمتوں میں انہیں شریک کرے جو بے شمار رنگ میں ہر آن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کر رہا ہے کیونکہ یہ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے غلاموں میں سے ہیں۔لیکن ہماری مالی قربانیوں کی رفتار اتنی نہیں رہی جتنی کہ ہماری ضرورتوں کے بڑھنے کی رفتار تھی اس وقت جو نقشہ میں آپ کے سامنے تحریک جدید کی مالی قربانیوں کا رکھوں گا اس سے آپ کو یہ بات عیاں ہو جائے گی میں نے سات سات سال کے بعد کے اعداد وشمار دفتر سے حاصل کئے ہیں یعنی جو سال رواں ہے اس سے سات سال پہلے کیا حالات تھے کیا نقشہ تھا چندوں کا، کیا کیفیت تھی پھر اس سے سات سال پہلے کیا کیفیت تھی یعنی اس نقشہ میں دفتر دوم کے چودہ سال ہیں جو ان کی قربانیوں کے سالوں کا قریباً ۲/۳ ہے اور دفتر اول کے چودہ سال ہیں جو ان کے تینتیس سالوں میں سے چودہ سال یعنی ۲٫۵ کے قریب ہے۔بہرحال ۵۴۔۱۹۵۳ء، ۶۱۔۱۹۶۰ ء اور ۶۸۔۱۹۶۷ ء کے اعداد و شمار سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس جہت میں ہماری حرکت ہے اور کیا اگر ہمارا قدم ترقی کی طرف ہے تو اس میں اتنی تیزی پائی جاتی ہے کہ ہماری ضرورتوں کو ہماری رفتار پورا کرنے والی ہو۔۱۹۵۳ء میں دفتر اول کا چندہ ۲,۴۶,۰۰۰ تھا اور دفتر دوم کا ۱۰,۰۰۰ ,۱۔میزان تھی۔۳,۵۶,۰۰۰ ( میں سینکڑوں کو چھوڑتا ہوں )۔۱۹۶۰ ء میں دفتر اول کی آمد ۵۳ ء سے گر گئی اور ۲,۴۶,۰۰۰ سے گر کے ٫۸۳,۰۰۰ا پر پہنچ گئی اور پہنچنی چاہیے تھی کیونکہ اس عرصہ میں ہمارے بہت سے بھائی ہم سے جدا ہو گئے۔