خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 955 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 955

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۵۵ خطبہ جمعہ ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۷ء دفتر دوم کی آمد ۱۹۶۰ ء میں (۱۹۵۳ء کے مقابلہ میں ) بڑھی اور اسے بڑھنا چاہیے تھا اور ۱۰،۰۰۰ ، ا سے بڑھ کے ۷۲،۰۰۰، ۱ تک پہنچ گئی۔۶۸۔۱۹۶۷ء میں دفتر اول کی آمد (۱۹۵۳ء کی ۲,۴۶,۰۰۰ کی آمد کے مقابلہ میں اور ۱۹۶۰ ء کی ۱,۸۳,۰۰۰ کی آمد کے مقابلہ میں ) صرف ٫۲۰,۰۰۰ا رہ گئی۔اور دفتر دوم کی آمد ۱۹۶۷ء میں (۱۹۵۳ء کی آمد سے جو ۱۰,۰۰۰ را تھی بڑھ کے ) ۲,۳۸,۰۰۰ ہوگئی اور ۱۹۶۰ء کی ۱,۷۳,۰۰۰ کی آمد سے بڑھ کے ۲,۳۸,۰۰۰ ہوگئی۔۵۴ - ۱۹۵۳ء میں دفتر اول کی آمد دفتر دوم کے مقابلہ میں ۱,۳۶,۰۰۰ روپیہ زیادہ تھی ۶۱۔۱۹۶۰ء میں دفتر اول کی آمد دفتر دوم کی آمد سے صرف ۱۱,۰۰۰ روپیہ زائد تھی اور ۶۸ - ۱۹۶۷ ء میں دفتر اول کی آمد دفتر دوم کی آمد سے ۱,۱۸,۰۰۰ روپیہ کم تھی۔جبکہ ۱۹۵۳ء کے بجٹ میں اصل آمد دفتر اول کی دفتر دوم کے مقابلہ میں ۱,۳۶,۰۰۰ روپیہ زیادہ تھی ان اعداد و شمار سے یہ بات بالکل واضح اور عیاں ہو جاتی ہے کہ جوں جوں ہمارے دوست اس دنیا سے رخصت ہو کر اپنے اللہ کے حضور پہنچتے رہے۔دوسری نسل اس خلاء کو پر کرتی رہی اور آمد میں انہوں نے کوئی کمی نہیں آنے دی۔لیکن ایک اور چیز جو ہمیں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۶۰ ء کی کل آمد کا جب ہم مقابلہ کرتے ہیں تو اس میں کوئی ترقی نہیں ہوئی کیونکہ ۱۹۵۳ء میں دفتر اول اور دفتر دوم کی کل آمد ۳,۵۶,۰۰۰ تھی اور ۱۹۶۰ء میں دفتر اول اور دفتر دوم کی کل آمد ۳,۵۵,۰۰۰۔میں نے سینکڑے چھوڑ دیئے ہیں یعنی ۱۹۶۰ء میں ایک ہزار سات سو روپیہ کم آمد تھی (۱۹۵۳ء کے مقابلہ میں۔لیکن ایک ہزار کا کوئی ایسا فرق نہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا قدم نہ آگے بڑھا ان سالوں میں نہ پیچھے ہٹا۔۱۹۶۷ ء کے جو اعداد وشمار میں نے بتائے ہیں وہ وعدوں کے نہیں بلکہ اصل آمد کے ہیں یعنی جو آمد اس وقت تک ہو چکی ہے اور ابھی اس سال کی وصولی کا بہت سا حصہ باقی ہے لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی ہے جو اصل آمد اس وقت تک ہو چکی ہے ( مارچ، اپریل تک آمد رہتی ہے ) اس کے لحاظ سے بھی ۱۹۶۷ء میں ہماری آمد ہرسہ دفاتر کی ۳,۵۶,۰۰۰ کے