خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 940
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۴۰ خطبه جمعه ۲۰ /اکتوبر ۱۹۶۷ء سورج کو گرہن نہیں لگا اس سے ثابت ہوا کہ آپ اپنے دعوئی میں سچے نہیں۔لیکن وہ قادر و توانا خدا جو اپنے وعدہ کا سچا اور اپنے مخلص عباد کے ساتھ وفا اور پیار کا سلوک کرنے والا ہے اس نے عین اپنے وعدہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ۱۸۹۴ء کے ماہ رمضان میں معینہ تاریخوں میں چاند اور سورج کو گرہن کی حالت میں کر دیا اور دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا اور ہر دو جہاں کا رب بڑی عظمت اور جلال اور قدرت کا مالک ہے نہ صرف ایک دفعہ بلکہ یہی نشان رمضان ہی کے مہینہ میں اور عین معینہ تاریخوں پر ۱۸۹۵ء میں دوسری دنیا کو دکھایا تا مشرق اور مغرب اور پرانی اور نئی دنیا کے بسنے والے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے روحانی فرزند حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی صداقت کے گواہ ٹھہریں۔پس عظیم ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جس نے اپنے خدا سے علم پا کر یہ معجزانہ پیشگوئی فرمائی اور عظیم ہے آپ کا وہ روحانی فرزند جس کے حق میں وہ پوری ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے زمانہ تک اگر چہ کئی پیدا ہوئے جنہوں نے مہدی ہونے کا دعوی کیا مگر ان میں سے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کی مہدویت کی صداقت پر چاند اور سورج گواہ بنے ہوں یہ ایک بات ہی اس امر کے لئے کافی ہے کہ آپ ٹھنڈے دل اور گہرے فکر سے اس مدعی کے دعوئی پر غور کریں جس کا پیغام میں آج آپ تک پہنچا رہا ہوں اور جس کی عظمت اور صداقت پر چاند اور سورج بطور گواہ کھڑے ہیں۔سورج اور چاند کی شہادت تو میں بیان کر چکا اب آئیے زمین کی آواز سنیں وہ کیا کہتی ہے۔حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کی وجہ سے اور آپ کی صداقت کے ثبوت میں زمین پر ایک حیرت انگیز اور محیر العقول مادی اور روحانی انقلاب ہونا مقدر تھا۔در حقیقت تمام انقلابات اور تمام تاریخی تغیرات اسی ایک انقلاب کے سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں جو آپ کے دنیا میں مبعوث ہونے کے ساتھ شروع ہوا تھا اور جو آپ کی صداقت کے ثبوت کے طور پر بطور گواہ کے ہے مزید برآں یہ سب انقلابات اور انسانی تاریخ کے سب اہم موڑ