خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 941 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 941

خطبات ناصر جلد اوّل ۹۴۱ خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۶۷ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح موعود کی پیشگوئیوں کے مطابق ہیں۔چند مثالیں میں پیش کرتا ہوں۔آپ کے دعوئی کے وقت مہذب اور فاتح مغربی طاقتوں کے مقابلہ میں کسی مشرقی طاقت کا کوئی وجود نہ تھا لیکن ۱۹۰۴ء میں آپ نے دنیا کو یہ بتایا کہ عنقریب مہذب اور فاتح مغربی طاقتوں کے رقیب کی حیثیت میں دنیا کے افق پر ایسی مشرقی طاقتیں اُبھرنے والی ہیں جن کی طاقت کا لوہا مغربی طاقتوں کو بھی ماننا پڑے گا چنانچہ جلد ہی اس کے بعد جنگ روس و جاپان میں جاپان نے فتح پائی اور وہ ایک مشرقی طاقت کے طور پر افق دنیا پر نمودار ہوا۔پھر دوسری جنگ عظیم میں جب جاپان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو چین ایک مشرقی طاقت کی حیثیت میں اُفق دنیا پر اپنی پوری مشرقیت اور طاقت کے ساتھ نمودار ہوا اور انسانی تاریخ میں ان ہر دو طاقتوں کے عروج کے ساتھ ایک نیا موڑ آیا جن کے اثرات انسانی تاریخ میں اتنے وسیع اور اہم ہیں کہ کوئی شخص ان سے انکار نہیں کر سکتا اور یہ جو کچھ ہوا الہی منشا اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ہوا۔ہمارے زمانے کا دوسرا اہم واقعہ جس سے قریباً ساری دنیا کسی نہ کسی رنگ میں متاثر ہوئی ہے زار روس اور شاہی نظام کی کامل تباہی اور بربادی اور کمیونزم کا برسر اقتدار آنا ہے۔روسی انقلاب کا عظیم سانحہ جس نے دنیا کی تاریخ کا رخ ایک خاص سمت موڑ دیا ہے بھی آپ کی پیشگوئی کے عین مطابق منصہ ظہور میں آیا آپ نے ۱۹۰۵ء میں زار روس اور شاہی خاندان اور شہنشاہیت کی کامل تباہی اور زبوں حالی کی خبر دی تھی اور یہ حیرت انگیز اتفاق ہے کہ اسی سال اس پیشگوئی کے چند ماہ بعد ہی وہ سیاسی پارٹی معرض وجود میں آئی جو قریب بارہ تیرہ سال بعد شاہی خاندان اور شاہی نظام حکومت کی تباہی کا باعث بنی اور اس کے بعد کمیونزم پہلے روس میں اور پھر دنیا کے دیگر مقامات میں برسر اقتدار آیا یہ ایک ایسی کھلی ہوئی بات ہے جس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔زار روس کی تباہی اور کمیونزم کا غلبہ اور اقتدار تاریخ انسانیت کا نہایت دکھ دوہ المیہ اور اہم ترین واقعہ ہے جس کے پڑھنے سے گو دل میں درد تو پیدا ہوتا ہے لیکن اسے نظر انداز کرناممکن نہیں دنیا کا کوئی ملک بھی بشمول آپ کے ملک کے اس کے اثر سے بچ نہیں سکا لیکن ہمارے لئے ان