خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 936
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۳۶ خطبه جمعه ۲۰ را کتوبر ۱۹۶۷ء میرے اس پیغام کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ پر بھی جس کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے اسلام کے خدا کی حقیقی شناخت کی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانوں کی معرفت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام کو پہچاننے کی اس پر بھی اس دعوت کے نتیجہ میں ذمہ داریاں پہلے سے بڑھ گئی ہیں کیونکہ جب ہم ان اقوام کو جو د نیوی علوم میں بہت بلند یاں حاصل کر چکی ہیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں اور انہیں جھنجھوڑتے ہیں اور انہیں یہ بتاتے ہیں کہ اسلام لے آؤ اسلام کے اللہ کی شناخت کرو اس کی طرف رجوع کرو اس کی محبت اپنے دل میں پیدا کرو تو اگر وہ ہماری بات مان لیں اور کہیں کہ اچھا ہم اسلام کو سمجھنے کے لئے تیار ہیں آؤ اور ہمیں اسلام سمجھاؤ تو اس وقت ہمارے پاس اتنے آدمی مرد و عورت جوان بوڑھے ہونے چاہئیں کہ اس مطالبہ کو پورا کر سکیں۔اب جب ہم نے جھنجھوڑ کے ان اقوام کو اسلام کی طرف بلایا ہے یہ ذمہ داری ہم پر اور بھی بڑھ گئی۔تو ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے لئے آج میں وہی مضمون اُردو میں اپنے دوستوں کو یہاں سنانا چاہتا ہوں کیونکہ مجھ پر اثر یہ ہے کہ بہت سے لکھے پڑھے احمدی بھی باقاعدگی کے ساتھ ہماری جماعت کے رسالوں اور اخبارات کو نہیں پڑھتے جب تک جماعت کے ہر فرد کو یہ علم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے کس قدر احسان اور کس رنگ میں جماعت پر ہو رہے ہیں اللہ تعالیٰ کا شکر دل میں پیدا نہیں ہوسکتا اور جب تک جماعت کے ہر فرد کو یہ پتہ نہ ہو کہ جماعت کو اللہ تعالیٰ کس طرف لے جا رہا ہے اور جماعت سے کیا کام لینا چاہتا ہے اس وقت تک اس کام کی ادائیگی کی ذمہ داری کا احساس ان کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتا۔اس لئے یہ احساس پیدا کرنے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ میں نے کس رنگ میں اور کن الفاظ میں ان اقوام کو مخاطب کیا ہے۔اس مضمون کو آپ کے سامنے پڑھنا چاہتا ہوں اس کے مخاطب جیسا کہ میں نے کہا ہے وہ اقوام ہیں جو د ہر یہ ہیں یا عیسائی ہیں یا لا مذہب ہیں میں نے ان اقوام کو مندرجہ ذیل الفاظ میں مخاطب کیا تھا :۔امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔احمد یہ جماعت کے امام کی حیثیت میں مجھے ایک روحانی مقام پر فائز ہونے کی عزت